طلعت بٹ
بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں مستقل دشمنی یا مستقل دوستی نہیں ہوتی، بلکہ قومی مفاد اور عالمی حالات ہی تعلقات کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ پاکستان اور روس کے تعلقات کی تاریخ بھی اسی حقیقت کی ایک واضح عکاسی ہے۔ کبھی سرد جنگ کے دوران سخت کشیدگی اور بداعتمادی، اور کبھی نئے مواقع و تعاون کی تلاش۔ آج ایک بار پھر پاکستان اور روس ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں اور خطے کے بدلتے سیاسی و معاشی منظرنامے میں یہ تعلقات خاص اہمیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی حالیہ ملاقات پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے باب کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ ملاقات محض رسمی مصافحے تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تجارت، توانائی، زراعت، ٹرانسپورٹ اور صنعتی تعاون کے حوالے سے سنجیدہ گفتگو ہوئی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا گزشتہ سال جولائی میں آستانہ کے بعد ہماری ملاقات ہو رہی ہے،دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور معیشت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے سنجیدہ اور پرخلوص کوششیں جاری ہیں ،گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہوا ، ہم نے روس سے تیل درآمد کیا ہے جس سے دو طرفہ تجارت بڑھی ہے ،پچھلے کئی سالوں سے دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں ،صدر پیوٹن کی دلچسپی اور عزم کی بدولت تعلقات درست سمت میں گامزن ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آستانہ میں ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے وفود نے ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کیا ،روس کے ساتھ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے خواہشمند ہیں اور اس سلسلے میں زراعت ،آئرن ،سٹیل ،توانائی ،ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے مختلف پروٹوکولز پر دستخط بھی کئے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے درست کہا کہ روس، قازقستان، ازبکستان، بیلاروس اور افغانستان کے ساتھ تجویز کردہ کوریڈور خطے کی معیشت کو نئی جہت دے گا۔ اگر یہ منصوبہ حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو وسطی ایشیا سے پاکستان کے بندرگاہوں تک رسائی آسان ہو گی، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ یہ کوریڈور دراصل ایک نئے تجارتی نقشے کی بنیاد رکھ سکتا ہے جس میں پاکستان اہم کردار ادا کرے گا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی پاکستان کو ایشیا میں "روایتی شراکت دار" قرار دے کر اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں اعتماد کا عنصر شامل ہے۔ ان کا یہ بیان کہ "تجارت کے فروغ میں رکاوٹوں کو دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے" اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ محض باتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہی تعلقات کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ روس بھارت کا قریبی اتحادی ہے، لیکن پاکستان نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے نہایت متوازن انداز میں یہ موقف اپنایا ہے کہ اسلام آباد بھی ماسکو کے ساتھ
دیرپا اور دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف حقیقت پسندانہ ہے بلکہ خطے میں امن اور توازن کے قیام کے لیے بھی اہم ہے۔روس کی جانب سے پاکستان میں قدرتی آفات اور سیلاب متاثرین کے لیے اظہارِ ہمدردی نے اس بات کو مزید تقویت دی ہے کہ تعلقات صرف سفارتی نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر بھی قریب آ سکتے ہیں۔ یہ جذبہ اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی سطح پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ رابطے ہیں ،بین الاقوامی فورم پر بھی پاکستان اور روس ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں ،پاکستان اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے ،اقوام متحدہ ایک اہم پلیٹ فارم ہے اور اس کے فریم ورک کے تحت ہمارے رابطے برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نومبر میں روس میں ایس سی او کے فریم ورک کے تحت سربراہان حکومت کا اجلاس ہو رہا ہے ،ہم اس میں آپ کو شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔مجموعی طور پر یہ ملاقات پاکستان اور روس کے تعلقات کو نئی جہت دے رہی ہے۔ اگر طے شدہ پروٹوکولز پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جائے، اور دونوں ممالک اپنی توانائیاں تجارت اور معاشی تعاون پر مرکوز رکھیں تو نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ پورا خطہ امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
پاکستان اور روس کے تعلقات ماضی میں کئی نشیب و فراز سے گزرے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران یہ تعلقات سرد مہری کا شکار رہے، لیکن اب وقت نے کروٹ بدلی ہے۔ خطے کے بدلتے حالات اور عالمی سیاست کے نئے تقاضوں نے اسلام آباد اور ماسکو کو قریب لانے میں کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ برس روس سے سستا تیل خریدنے کے بعد تعلقات میں ایک عملی پیش رفت دیکھنے کو ملی۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے اہم تھا بلکہ اس نے یہ پیغام بھی دیا کہ دونوں ممالک عملی تعاون کی راہ پر گامزن ہیں۔
پاکستان اور روس کے تعلقات کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں ممالک کس حد تک اپنے اقتصادی و سیاسی تعلقات کو وسعت دیتے ہیں۔ اگر تجارتی حجم میں اضافہ کیا جائے، توانائی کے منصوبے بروقت مکمل ہوں اور دفاعی تعاون کو مزید تقویت دی جائے تو یہ تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن و ترقی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اور روس کے تعلقات ایک نئے دور کے آغاز پر کھڑے ہیں۔ سرد جنگ کی تلخ یادیں اب ماند پڑ رہی ہیں اور ایک حقیقت پسندانہ اور مفاداتی تعلقات کی بنیاد ڈالی جا رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام آباد اور ماسکو اعتماد سازی کے اس عمل کو آگے بڑھائیں، تاکہ ایک مضبوط، متوازن اور دیرپا شراکت داری وجود میں آ سکے۔ اب یہ قیادتوں کی سنجیدگی اور مستقل مزاجی پر منحصر ہے کہ یہ تعلقات محض الفاظ کی حد تک رہتے ہیں یا حقیقی معنوں میں خطے کی ترقی کا سبب بنتے ہیں۔