چارسدہ کی معروف مذہبی و سیاسی شخصیت، سابق رکن صوبائی اسمبلی اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق مولانا ادریس ترنگزئی پر حملے میں 9 ایم ایم پستول استعمال کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر چار افراد اس کارروائی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دو افراد نے ریکی کی جبکہ دیگر دو نے سہولت کاری اور حملے کی تکمیل میں کردار ادا کیا۔رپورٹ کے مطابق مولانا ادریس کے گھر سے مدرسے تک تقریباً دو کلومیٹر کے راستے کی نگرانی کی گئی اور قبرستان کے قریب حملہ آوروں نے مناسب موقع دیکھ کر کارروائی کی۔تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی حملہ آور کی نشاندہی کر لی گئی ہے جبکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کر لیے گئے ہیں، جن کی روشنی میں مزید چھاپے اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔
واضح رہے کہ مولانا محمد ادریس ترنگزئی گزشتہ روز ضلع چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں اس وقت قاتلانہ حملے میں شہید ہوئے تھے جب وہ دورۂ حدیث کا درس دینے کے لیے دارالعلوم اتمانزئی جا رہے تھے۔ واقعے میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے۔حکام نے اس حساس واقعے کی مکمل چھان بین کے لیے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔