امریکا کی 14 نکاتی امن تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے : ایران

امریکا کی 14 نکاتی امن تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے : ایران

ایران نے امریکا کی جانب سے موصول ہونے والی 14 نکاتی امن تجاویز پر باضابطہ ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے جواب کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم امریکی مؤقف میں غیر معمولی اور حد سے زیادہ مطالبات شامل ہیں جنہیں قبول کرنا آسان نہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ امریکا نے پاکستان کے ذریعے تہران کے 14 نکاتی امن منصوبے پر اپنا جواب بھجوایا ہے اور ایران اس کا بغور مطالعہ کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی اصل تجویز صرف جنگ بندی اور خطے میں فوجی محاذ آرائی کے خاتمے پر مرکوز تھی، اس میں ایٹمی پروگرام سے متعلق تفصیلی نکات شامل نہیں تھے۔دوسری جانب امریکی اور سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک ایک ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں، جس میں جنگ کے باضابطہ خاتمے، 30 روزہ مذاکراتی مہلت، آبنائے ہرمز میں مرحلہ وار نرمی اور پابندیوں کے مستقبل جیسے معاملات شامل ہیں۔ امریکا کو آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کے حتمی مؤقف کا انتظار ہے۔

ایرانی ترجمان نے تاہم یہ عندیہ بھی دیا کہ تہران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں یکطرفہ دباؤ، غیر حقیقی شرائط یا مسلسل بدلتے امریکی مطالبات شامل ہوں۔ ان کے مطابق ایران صرف “منصفانہ اور قابلِ عمل” امن فریم ورک پر ہی آگے بڑھنے کو تیار ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اب خطے کی نظریں ایران کے اگلے باضابطہ جواب پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ یہی ردعمل امریکا ایران کشیدگی کے خاتمے یا ایک نئے سفارتی تعطل کا رخ متعین کرے گا۔