بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو دیگر وکلاء کے ہمراہ گورکھ پور ناکے پر پولیس نے روک لیا۔
سلمان اکرم راجہ نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا ان کے لیے بہت ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں روکنے والے افراد مجرم ہیں اور یہ توہین عدالت کے مترادف ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے کو عدالت کے سامنے لے کر جائیں گے اور اسے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مخصوص نشستوں کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے تاکہ آئندہ کی حکمت عملی پر بات کی جا سکے۔ سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ سینیٹر علی ظفر، نعیم پنجوتھا، اور علی اعجاز بٹر کو بھی گورکھ پور ناکے پر روکا گیا۔ یہ واقعہ ایک سیاسی اور قانونی تناؤ کو جنم دیتا نظر آ رہا ہے جس کا مزید قانونی تجزیہ سامنے آ سکتا ہے۔