اسرائیل کا نیا منصوبہ: غزہ سے 20 لاکھ فلسطینیوں کو نکالنے کی تیاری

اسرائیل کا نیا منصوبہ: غزہ سے 20 لاکھ فلسطینیوں کو نکالنے کی تیاری

غزہ/یمن/لبنان/شام : مشرق وسطیٰ میں جنگ کی آگ مزید بھڑک اٹھی ہے۔

 اسرائیلی فوج نے ایک ہی دن میں یمن، لبنان، شام اور غزہ پر فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں صرف غزہ میں کم از کم 54 فلسطینی شہید ہو گئے، جب کہ درجنوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔

زمینی کارروائی کا عندیہ: 20 لاکھ فلسطینیوں کو نکالنے کی تیاری
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں نئی زمینی کارروائی کے اشارے دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ "غزہ سے دہشتگردوں کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔" ذرائع کے مطابق اسرائیلی منصوبے میں غزہ سے 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی جبری بے دخلی شامل ہے، جس پر عالمی برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

اسپتالوں کے پاس صرف 48 گھنٹے کی سہولیات باقی
غزہ میڈیا آفس نے خبردار کیا ہے کہ اسپتالوں میں ایندھن، ادویات اور طبی آلات کی شدید قلت ہے، اور صرف 48 گھنٹے کی سہولیات باقی رہ گئی ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 52,567 فلسطینی شہید اور 118,610 زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ ہزاروں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

یمن پر بمباری، ایران پر الزام
ادھر اسرائیل نے حوثی حملے کے جواب میں یمن کے شہر الحدیدہ پر فضائی حملہ کیا، جس میں ایک شخص ہلاک اور 35 زخمی ہوئے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ "ایرانی اسلحے اور دہشتگردی" کی سپلائی کا مرکز ہے۔

لبنان اور شام بھی نشانے پر
لبنان اور شام میں بھی اسرائیلی جنگی طیاروں نے مختلف ٹھکانوں پر بمباری کی، جنہیں اسرائیل نے "حماس اور حزب اللہ کے مراکز" قرار دیا ہے، تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسرائیلی کابینہ کا غزہ پر قبضے کا فیصلہ
اسرائیلی کابینہ نے غزہ میں فوجی کارروائی کو وسعت دینے اور ممکنہ قبضے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورہ مشرق وسطیٰ کا بھی منتظر ہے تاکہ امریکی حمایت حاصل کی جا سکے۔

اقوام متحدہ کی مذمت، مغرب پر تنقید
اقوام متحدہ کی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے مغربی میڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ "اسرائیل کے جنگی جرائم کو نظر انداز کرنا انسانی اقدار کے منافی ہے۔"

مغربی کنارے میں کسانوں پر ظلم
مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے فلسطینی کسانوں کی زیتون کے درجنوں درخت کاٹ دیے، جس سے کسان شدید صدمے میں ہیں۔ مقامی افراد نے بین الاقوامی اداروں سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔