خالدہ ضیاء وطن واپس پہنچ گئیں، انتخابات کا مطالبہ

خالدہ ضیاء وطن واپس پہنچ گئیں، انتخابات کا مطالبہ

ڈھاکا:بنگلادیش کی سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء منگل کی صبح لندن سے علاج کے بعد وطن واپس پہنچ گئیں۔

 ان کی واپسی کے بعد ملک میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

خصوصی ایئر ایمبولینس میں واپسی
خالدہ ضیاء نے اپنی دونوں بہوؤں کے ہمراہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے فراہم کردہ ایک خصوصی ایئر ایمبولینس میں وطن واپسی کی۔ ان کے استقبال کے لیے ڈھاکا ایئرپورٹ پر پارٹی کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

علاج اور قانونی پیش رفت
79 سالہ خالدہ ضیاء گزشتہ چار ماہ سے لندن میں علاج کی غرض سے مقیم تھیں۔ اس سے قبل جنوری 2025 میں بنگلادیش کی سپریم کورٹ نے انہیں ایک اہم کرپشن کیس میں بری کر دیا تھا۔یہ مقدمہ 2001 تا 2006 غیر ملکی عطیات میں $173,000 کی مبینہ خرد برد سے متعلق تھا۔جبکہ نومبر 2024 میں بھی وہ ایک اور 31.5 ملین ٹکا کی بدعنوانی کے کیس سے بری ہو چکی تھیں۔

سیاسی پس منظر
واضح رہے کہ اگست 2024 میں طلبا کے ملک گیر احتجاج کے بعد وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا، جس کے بعد وہ بھارت چلی گئی تھیں۔اسی دوران خالدہ ضیاء کو بھی رہا کر دیا گیا تھا، اور وہ علاج کے لیے برطانیہ روانہ ہو گئی تھیں۔

انتخابات کا مطالبہ
اب وطن واپسی کے بعد خالدہ ضیاء نے عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں دسمبر 2025 میں عام انتخابات منعقد کرے۔ ان کی موجودگی سے BNP کی قیادت کو نئی طاقت ملی ہے اور ملک میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ سکتی ہے۔

خالدہ ضیاء کا سیاسی کیریئر
بنگلادیش کی پہلی خاتون وزیراعظم رہیں۔1991 تا 1996 اور پھر 2001 تا 2006 ملک کی سربراہ رہیں۔وہ پاکستان کی بینظیر بھٹو کے بعد مسلم دنیا کی دوسری خاتون وزیراعظم تھیں۔