بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کی صحت ایک بار پھر بگڑ گئی ہے، جس کے بعد گزشتہ شب انہیں زندگی بچانے کے لیے وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بی این پی کے وائس چیئرمین ایڈووکیٹ احمد اعظم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خالدہ ضیاء کی حالت دوبارہ نازک ہو گئی ہے اور وہ گزشتہ رات سے وینٹی لیٹر پر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلے انہیں سی سی یو سے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا، اور اب انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ خالدہ ضیاء کو 23 نومبر کو مختلف طبی مسائل کے سبب اسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور وہ اب بھی زیر علاج ہیں۔دوسری جانب، خالدہ ضیاء کے بیٹے، جو لندن میں مقیم ہیں اور خودساختہ جلاوطن اور بی این پی کے قائم مقام سربراہ طارق رحمٰن کی وطن واپسی بھی غیریقینی صورت حال کا شکار ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ 'وطن واپس آنا میری مکمل اختیار میں نہیں ہے'، جس سے ان کی ممکنہ واپسی اور اس سے متعلق سیاسی و قانونی رکاوٹیں سامنے آنے لگی ہیں۔عبوری حکومت، جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں، نے وضاحت دی ہے کہ طارق رحمٰن کی وطن واپسی پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔ عبوری حکومت کے وزیر خارجہ توحید حسین نے بتایا کہ اگر طارق رحمٰن واپس آنا چاہیں تو ایک دن کے اندر ان کے لیے ٹریول پاس جاری کیا جا سکتا ہے۔