لوگ کیا کہیں گے


محمد اکمل ہاشمی
ہمارے معاشرے کے ہر فرد کا کسی نہ کسی طرح اس جملے سے واسطہ ضرور پڑتا ہے۔بلکہ دیکھا جائے تو یہ جملہ ساری ذندگی ہمارے ساتھ چلتا ہے۔ بڑے شہروں میں لوگ کچھ حد تک اس سے آذاد ہو چکے ہیں لیکن  پھر بھی کہیں نہ کہیں ان کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اگر بات کی جائے کسی چھوٹے شہر یا گاؤں میں بسنے والوں کی تو ان کا اور اس جملے کا تو جنم جنم کا ساتھ ہے۔ جب میں نے اس پہ سوچنا شروع کیا تو خیال آیا کہ کیوں نہ اس کو ذندگی کے مختلف مراحل کے ساتھ ملا کہ لکھا جائے۔ 
ادھر بچے کی پیدائش ہوتی اور والدین ہسپتال سے لٹ لٹا کے ابھی گھر پہنچے ہی ہوتے ہیں کہ یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ جلد از جلد دو چار من مٹھائی کا انتظام کیا جائے تاکہ گاؤں کے تمام جان پہچان والوں کے گھر لڈو پہنچ جاہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو "لوگ کیا کہیں گے"  کہ ان کو تو بچے کی پیدائش کی زرہ بھر بھی خوشی نہیں ہوئی۔  
اب بچہ کچھ بڑا ہوا تو اگلا مرحلہ اس کو سکول بھیجنے کا ہے۔  اب اگر والد کی کمائی کچھ بہتر ہے تو فرض ہو گیا کہ بچے کو کسی بڑے سکول میں داخلگ کرایا جائے چاہے بچہ ایک اوسط درجے کا طالب علم ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ والدین کا مسئلہ بچے کی تعلیم نہیں ہے بلکہ ان کے لیے بڑا مسئلہ یہ  ہے کہ اگر بچے کو کسی چھوٹے سکول میں داخل کروا دیا تو "لوگ کیا کہیں گے". اس بات سے کسی کو غرض نہیں کہ بچہ وہاں دوسرے بچوں سے مقابلہ نہ کر پائے اور احساس کمتری کا شکار ہو جائے۔ 

اب تعلیم کے بعد بات آتی ہے روزگار کی تو ہمارا نوجوان دنیا کے کسی بھی ملک میں جا کر کوئی بھی کام کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ادھر کا پڑھا لکھا نوجوان کسی دوسرے ملک میں جا کر شوارما بیچ سکتا ہے مگر یہاں  کبھی بھی نہیں بیچے گا کیوں؟ کیونکہ یہاں "لوگ کیا کہیں گے"

 اب آنے والا مرحلہ سب سے ذیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی نے باقی ماندہ ذندگی کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے. یہ مرحلہ ہے شادی کا۔ اب بیٹی چاہے گھر بیٹھی بوڑھی ہو جائے جلدی شادی نہیں کریں گے کیونکہ جہیز دینے کی گنجائش نہیں ہے اور اگر نہ دے پائے تو "لوگ کیا کہیں گے" 

دوسرا مسئلہ رشتوں کی تلاش کا ہے ہمارے مذہب نے خاندان یا برادری سے باہر شادی کرنے سے کہیں بھی منع نہیں کیا۔ مگر ہم خاندان یا برادری سے باہر نیک سیرت لڑکی لڑکا بھی قبول نہیں کریں گے جبکہ برادری کا بدکردار بھی اس سے قبول کر لیا جائے گا کیونکہ خاندان یا برادری سے باہر رشتہ کیا تو "لوگ کیا کہیں گے" 

انسان جتنا کچھ کر لے آخر موت ہے اور یہ اس دنیاوی ذندگی کا آخری مرحلہ ہے۔  وہ اولاد جو ذندگی میں باپ یا ماں  کی دوا کا خرچ نہیں اٹھا سکتی ان کی وفات کے بعد لوگوں کو پچاس پچاس دیگیں کھانا کھلا  دیتے ہیں اور ختم میں میاں جی کے لیے نئے نئے برتن اور بستر رکھے جاتے ہیں۔ یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو "لوگ کیا کہیں گے"

ہم یہ سنتے تو ہیں مگر ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ لوگ کون ہیں جو کچھ نہ کچھ کہتے رہتے ہیں اور جن کی وجہ سے ہم خوفزدہ ہیں۔ تھوڑا سا غور کیا جائے تو وہ لوگ ہم خود ہیں کیونکہ ہر کسی کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی ہم اپنا حق اور کسی معاملے میں کچھ نہ جانتے ہوئے بھی رائے دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ 

ض