صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ ایران میں ایسی قیادت کو قبول نہیں کریں گے جو خامنہ ای کی پالیسیوں کو جاری رکھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اطلاعات مل رہی ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا ممکنہ سپریم لیڈر بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں اور بعض حلقوں میں انہیں مستقبل کا ممکنہ سپریم لیڈر قرار دیا جا رہا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایسے کسی شخص کو قبول نہیں کریں گے جو خامنہ ای کی موجودہ پالیسیوں کو جاری رکھے۔ ان کے مطابق ایران میں ایسی قیادت ہونی چاہیے جو ملک میں اتحاد اور امن کو فروغ دے۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب کے معاملے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک مجتبیٰ خامنہ ای قابل قبول نہیں ہیں۔اس موقع پر ٹرمپ نے برطانیہ اور اسپین کی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے وزیر اعظم جیسے مضبوط رہنما نہیں ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق انہیں برطانوی وزیر اعظم کے رویے پر حیرت اور مایوسی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں برطانیہ کو بلا ہچکچاہٹ امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنے چاہئیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے اسٹارمر کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں، لیکن بعض اوقات وہ ضروری فیصلے نہیں کرتے۔ٹرمپ نے اسپین پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے اور وہ نیٹو کے حوالے سے منفی رویہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اسپین کے وزیر اعظم نے امریکا کو ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں وہ فوجی اڈے استعمال کرنے سے روک دیا ہے جو نیٹو کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔