محمد ندیم بھٹی
لاھور پاکستان کا دل، تہذیبی مرکز اور معاشی سرگرمیوں کا اہم ترین محور سمجھا جاتا ھے۔ اس شہر کی تاریخی عظمت، ثقافتی تنوع اور معاشرتی زندگی نے اسے برصغیر کے نمایاں شہروں میں شامل کر رکھا ھے۔ مگر جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ھوا اور شہری پھیلاؤ نے تیزی اختیار کی، ویسے ویسے شہری منصوبہ بندی کے مسائل بھی سنگین ہوتے گئے۔ ان مسائل کے حل اور شہر کی منظم ترقی کے لیے قائم کیا گیا ادارہ ایل ڈی اے بنیادی ذمہ داری رکھتا ھے کہ وہ شہری ڈھانچے کو متوازن اور منظم رکھے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ھے کہ آج لاہور میں ٹاؤن پلاننگ کے حوالے سے کئی سوالات اٹھ رھے ھیں جن پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت محسوس کی جا رھی ھے۔ لاھور کی آبادی مسلسل بڑھ رھی ھے اور روزانہ ہزاروں افراد روزگار، تعلیم اور بہتر زندگی کی تلاش میں اس شہر کا رخ کرتے ھیں۔ اس تیزی سے بڑھتی ھوئی آبادی کے ساتھ شہری سہولیات کی فراہمی اور منصوبہ بندی ایک بڑا چیلنج بن چکی ھے۔ اگر ٹاؤن پلاننگ کے اصولوں پر سختی سے عمل نہ کیا جائے تو شہر کی ساخت بگڑ جاتی ھے اور شہری زندگی مشکلات کا شکار ھو جاتی ھے۔ بدقسمتی سے لاھور میں کئی علاقوں میں یہی صورتحال نظر آتی ھے جہاں رہائشی اور تجارتی سرگرمیاں ایک دوسرے میں اس طرح ضم ھو چکی ھیں کہ شہری نظم و ضبط متاثر ھو رہا ھے۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن ایک نمایاں مسئلہ بن چکی ھے۔ رہائشی گھروں کو دکانوں، کلینکس، دفاتر اور چھوٹے پلازوں میں تبدیل کیا جا رہا ھے۔ اس تبدیلی کا براہِ راست اثر ٹریفک، پارکنگ اور شہری سکون پر پڑتا ھے۔ جب کسی رہائشی گلی میں اچانک تجارتی سرگرمیاں شروع ھو جاتی ھیں تو وہاں نہ صرف ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا ھے بلکہ مقامی رہائشیوں کو بھی روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات پیش آتی ھیں۔ ٹاؤن پلاننگ قوانین واضح طور پر اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ رہائشی علاقوں کو بغیر باقاعدہ منظوری کے کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، مگر عملی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ھے۔
اسی طرح غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا مسئلہ بھی لاھور کے شہری نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ھے۔ شہر کے گرد و نواح میں درجنوں ایسی سوسائٹیز قائم ہو چکی ھیں جن کی قانونی حیثیت واضح نہیں۔ لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر پلاٹ خرید لیتے ھیں مگر بعد میں معلوم ھوتا ھے کہ نہ سوسائٹی کا نقشہ منظور شدہ ھے اور نہ ھی وہاں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا کوئی واضح منصوبہ موجود ھے۔ ایسے حالات میں شہریوں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑتا ھے اور متعلقہ اداروں پر سوالات اٹھنے لگتے ھیں۔کسی بھی بڑے شہر کی ترقی کے لیے ماسٹر پلان ایک بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتا ھے۔ لاہور کے لیے بھی ماسٹر پلان ترتیب دیا گیا تھا تاکہ شہر کی توسیع ایک منظم انداز میں ھو اور رہائشی، تجارتی اور صنعتی علاقوں کی واضح تقسیم برقرار رکھی جا سکے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ھے کہ اس ماسٹر پلان پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ کئی جگہوں پر گرین بیلٹس ختم ہو رھی ھیں، پارکوں کی زمینوں پر تعمیرات ھو رہی ھیں اور بلند و بالا عمارتیں بغیر مناسب منصوبہ بندی کے تعمیر کی جا رھی ھیں۔
ٹریفک کا مسئلہ بھی اسی بے ہنگم ترقی کا ایک نمایاں نتیجہ ھے۔ نئی ہاؤسنگ اسکیمیں تو قائم ھو رھی ھیں مگر سڑکوں، انڈر پاسز، فلائی اوورز اور
پبلک ٹرانسپورٹ کے مربوط نظام پر بروقت توجہ نہیں دی جاتی۔ چند سال بعد یہی علاقے شدید ٹریفک جام کا شکار ھو جاتے ھیں۔ شہریوں کا قیمتی وقت سڑکوں پر ضائع ھوتا ھے اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ھوتا ھے۔ جس کی مثال لاھور میں بڑھتی ہوئی سموگ اسی بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور درختوں کی کٹائی کا نتیجہ بھی قرار دی جاتی ھے۔
لاہور جو کبھی باغوں کا شہر کہلاتا تھا، جس پر معروف وزیراعظم پاکستان جناب نواز شریف نے خصوصی توجہ دی ھوئی تھی لیکن لاھور کو آج ماحولیاتی مسائل کے علاوہ کمزور ٹاون پلاننگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ھے۔ درختوں کی کٹائی، گرین ایریاز میں کمی اور بے ہنگم تعمیرات نے شہر کے قدرتی حسن کو متاثر کیا ھے۔ میرے مطابق اگر گرین بیلٹس اور پارکوں کا تحفظ نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں لاھور کے ماحول پر اس کے مزید منفی اثرات مرتب ھوں گے۔ جس کو ابھی تک تو چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ نے بڑے احسن طریقے سے سنبھالا ھوا ھے۔
ٹاؤن پلاننگ کے اداروں کے اندر انتظامی مسائل بھی زیرِ بحث آ رھے ھیں۔ نقشوں کی منظوری میں تاخیر، فائلوں کا طویل عمل اور نوزائیدہ عمر اور زبردستی کے افسران کی اپنے انسپکٹر ز کی خود ساختہ عوام کی عمارات پر اعتراض جس کی کوئی قانونی حیثیت بھی نہیں اس سے عوام کو پریشان کرکے بیوروکریٹک پیچیدگیاں شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ھیں۔ جس کی کئی افراد ایل ڈی اے کے دفتر میں راقم کو لوگ ذاتی طور پر شکایت کرتے نظر آئے اور انہوں نے بتایا ھیں کہ قانونی طریقے سے کام کروانے میں غیر معمولی وقت لگ جاتا ھ?ے جبکہ غیر رسمی ذرائع سے معاملات جلد حل ھو جاتے ھیں۔ میرا اشارہ میرے کالم کے باقاعدہ قاری سمجھ تو گئے ھوں گے اس صورتحال سے اداروں کی ساکھ متاثر ھوتی ھے اور عوامی اعتماد میں کمی آتی ھے۔
اسی تناظر میں بعض عہدوں پر تقرریوں کے حوالے سے بھی مختلف حلقوں میں بحث جاری رہتی ھے۔ مثال کے طور پر ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ علی عباس رضوی کے حوالے سے بعض حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ھے کہ کم عمری میں اس قدر اہم منصب سنبھالنا ایک بڑی ذمہ داری ھے جس کے لیے وسیع تجربہ درکار ھوتا ھے جس کے بر عکس وہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان سے جھگڑا کرتے نظر آتے ہیں ‘
کچھ حلقوں میں یہ بھی سننے میں آتا ھے کہ ایل ڈی اے کے بعض بدنام زمانہ انسپکٹرز کے ساتھ مبینہ روابط یا نرم رویہ بدعنوانی کے خدشات کو جنم دے رھا ھے۔ اگرچہ ایسی باتوں کی تصدیق کے لیے شفاف انٹیلی جنس بیسڈ تحقیقات ضروری ھوتی ھیں، جو وزیر اعلی محترمہ مریم نواز صاحبہ کی ٹیم ھی کر سکتی ھے اس قسم کی مسلسل خبریں بھی کسی ادارے کے افسران برسراقتدر حکومت کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ھو سکتی ھیں۔ اگر اس نوعیت کے معاملات کو بروقت اور شفاف طریقے سے حل نہ کیا جائے تو یہ لوگ اپنی کالی کرتوتوں سے نہ صرف ادارے بلکہ حکومت کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتے ھیں۔ جو حزب اختلاف سیاسی پارٹیوں کے لئے خبروں کا مجموعہ بنا دیتی ہیں۔
یہ صورتحال اس لیے بھی حساسیت اختیار کر جاتی ھے کیونکہ پنجاب حکومت اور خصوصاً چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ کی قیادت میں انتظامی
اصلاحات اور عوامی خدمت کے ایک واضح ویژن کی بات کی جاتی ھے۔ اگر کسی اہم ادارے کے بارے میں بدانتظامی یا کرپشن کی خبریں گردش کریں تو اس سے حکومت کی کارکردگی اور نیک نامی متاثر ھونے کا خدشہ پیدا ھو جاتا ھے۔ اس لیے ضروری ھے کہ ایسے تمام معاملات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور اگر کوئی بے ضابطگی ثابت ھو تو اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ شہریوں کی اپنی ذمہ داری بھی بہت اہم ھے۔ اکثر لوگ بغیر تصدیق کے کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم میں سرمایہ کاری کر لیتے ھیں۔ بعد میں جب قانونی پیچیدگیاں سامنے آتی ھیں تو وہ متعلقہ اداروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ھیں۔ اس لیے ضروری ھے کہ شہری کسی بھی پلاٹ یا پراپرٹی کی خریداری سے پہلے اس کی قانونی حیثیت ضرور چیک کریں۔ یعنی قوانین اور ضوابط کو درست انداز میں بروئے کار لانا ہی شہری مسائل کے حل کی بنیاد بن سکتا ھے۔
اگر حل کی بات کی جائے تو سب سے اہم قدم یہ ھے کہ ٹاؤن پلاننگ کے قوانین پر بلا امتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور گرین ایریاز کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ نئی ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری سے پہلے یہ یقینی بنایا جائے کہ وہاں سڑکیں، سیوریج، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ھوں۔
اسی طرح جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شہری انتظامیہ کو زیادہ مؤثر بنا سکتا ھے۔ اگر بلڈنگ پلان کی منظوری، کمرشلائزیشن اور دیگر امور کو مکمل طور پر آئی ٹی یعنی ڈیجیٹل اور آن لائن کر دیا جائے تو نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ کرپشن کے امکانات بھی کم ھو جائیں گے۔ شہریوں کو بھی شکایات درج کروانے اور ان کے فوری حل کے لیے مؤثر نظام فراہم کیا جانا چاہیے۔
لاہور کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت ہم سب کے لیے باعثِ فخر ھے۔ یہ شہر صرف عمارتوں اور سڑکوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیب کی علامت ھے۔ اگر اس شہر کی ترقی کو منظم اور پائیدار نہ بنایا گیا تو آنے والی نسلوں کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ھے۔
وقت کا تقاضا ھے کہ شہری منصوبہ بندی کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عملی طور پر نافذ کیا جائے۔ جب تک قوانین کی پاسداری، میرٹ کی بالادستی اور شفاف احتساب کو یقینی نہیں بنایا جائے گا تب تک مسائل کا مکمل حل ممکن نہیں ہو سکے گا۔ لاھور کو ایک منظم، سرسبز اور جدید شہر بنانے کے لیے ضروری ھے کہ تمام متعلقہ ادارے، ماہرین اور شہری مل کر ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ اگر یہ سنجیدہ کوششیں کی گئیں تو یقیناً لاھور اپنی خوبصورتی، ترتیب اور معیارِ زندگی کے حوالے سے مثال بن سکتا ھے اور شہری منصوبہ بندی کے میدان میں ایک مثبت ماڈل کے طور پر سامنے آ سکتا ھے۔