بسنت 25 سال بعد لوٹ آئی، مختلف حادثات میں ایک نوجوان جاں بحق، 3 بچوں سمیت 6 افراد زخمی

بسنت 25 سال بعد لوٹ آئی، مختلف حادثات میں ایک نوجوان جاں بحق، 3 بچوں سمیت 6 افراد زخمی

لاہور میں 25 سال بعد بسنت فیسٹیول کے آغاز کے ساتھ ہی شہر بھر میں جشن کا سماں دیکھنے میں آیا، تاہم خوشیوں کے اس موقع پر مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ 3 بچوں سمیت 6 افراد زخمی ہو گئے۔

بعض مقامات پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق سکھ نہر کے قریب 25 سالہ علی رشید کٹی پتنگ اتارنے کے لیے بجلی کے کھمبے پر چڑھا، جہاں کرنٹ لگنے سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ متوفی کی لاش ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ گلشنِ راوی کے علاقے میں 8 سالہ ارحا والد کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہی تھی کہ اچانک پتنگ کی ڈور اس کے گلے میں پھر گئی، جس کے باعث وہ شدید زخمی ہو گئی۔ زخمی بچی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔دیگر واقعات میں راوی روڈ کے علاقے میں چھت سے گرنے کے باعث ثاقب نامی شخص زخمی ہوا، جبکہ لوئر مال میں پتنگ لوٹتے ہوئے 12 سالہ عبد الواحد زخمی ہو گیا۔ گلشن راوی ہی میں 14 سالہ سلمان درخت سے پتنگ اتارتے ہوئے زخمی ہوا۔

ریسکیو حکام کے مطابق گلشن راوی میں ہی 45 سالہ شبیر پتنگ کی ڈور گلے میں پھرنے سے زخمی ہوا، جبکہ ڈیفنس فیز فائیو میں 21 سالہ رفیع تنویر بھی پتنگ کی ڈور کی زد میں آ کر زخمی ہو گیا۔دوسری جانب بسنت کے آغاز پر بعض علاقوں میں ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی سامنے آئی۔ رات 12 بجتے ہی اندرون شہر ہوائی فائرنگ اور آتشبازی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جس پر پولیس اور متعلقہ اداروں نے نوٹس لے لیا ہے۔حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بسنت کی خوشیوں کو حادثات میں تبدیل ہونے سے بچانے کے لیے ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں اور اپنی و دیگر افراد کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔