سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
زمانہ اپنی رفتارمیں ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔کبھی یہ امن کی نرم ہواؤں میں سانس لیتاہے اورکبھی فتنوں کی آندھیوں میں الجھ کراپنی شناخت کھوبیٹھتاہے۔آج کاعالمی منظرنامہ اسی اضطراب کی تصویرہے جہاں طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے کرداربظاہرامن کے پیامبر ہیں،مگر پسِ پردہ ان کے عزائم ایسے پیچیدہ جال بنتے ہیں جن میں سچائی اکثرالجھ کررہ جاتی ہے۔یہ رپورٹ اسی الجھن کوسلجھانے کی ایک کاوش ہیایسی کاوش جس میں تاریخ کی صدائیں،حال کی گونج اورمستقبل کے خدشات یکجاہوکرایک فکری داستان رقم کرتے ہیں۔اس تحریرمیں محض واقعات کابیان نہیں بلکہ ان کے پسِ منظر،ان کے اثرات اوران کے مضمرات کاایک سنجیدہ و متوازن جائزہ پیش کیاگیاہے،تاکہ قاری محض خبرنہ پڑھے بلکہ حقیقت کے قریب ترپہنچ سکے۔
عصرِحاضر کی سیاست، جسے کبھی توازن وتدبرکاآئینہ دارسمجھاجاتاتھا،اب شطرنج کی ایسی بساط بن چکی ہے جہاں مہروں کی چالیں خفیہ،نیتیں پیچیدہ اورنتائج انسانیت کیلئے تباہ کن ہوتے جارہے ہیں۔عصرِحاضرکی عالمی سیاست ایک ایسے گرداب میں داخل ہوچکی ہے جہاں حق وباطل کی تمیزدھندلاگئی ہے اورسفارتی مسکراہٹوں کے پسِ پردہ خنجرکی چمک نمایاں ہونے لگی ہے۔طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے کرداربظاہرامن کے پیامبر نظرآتے ہیں،مگران کے ہاتھوں میں سازشوں کے وہ دھاگے ہوتے ہیں جن سے عالمی امن کاکفن بناجاتاہے۔عالمی سیاست آج ایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں حقیقت اورفریب کے درمیان لکیردھندلاچکی ہے۔
ایسے میں پاکستان کے حساس اداروں کی جانب سے بھارت کی مبینہ فالس فلیگ منصوبہ بندی کوبے نقاب کرنامحض ایک انٹیلی جنس کامیابی نہیں بلکہ غیرمعمولی پیش رفت اورتاریخ کے اوراق میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے۔یہ اقدام محض اس خطے کوایک بڑی تباہی سے بچانے کاہی نہیں بلکہ ایک فکری اورسفارتی معرکہ بھی ہے،جس نے خطے کی سیاست میں ہلچل پیداکردی ہے۔جونہ صرف خطے کی سیاست بلکہ عالمی ضمیرکیلئے ھی لمحہ فکریہ ہے۔اس مکروہ اورخطرناک فالس فلیگ کاقبل ازوقت انکشاف محض ایک خبرنہیں بلکہ ایک پردہ چاک حقیقت ہے،جوسفارتی چالوں کے پیچیدہ جال کوآشکارکرتی ہے۔یہ انکشاف اس خاموش جنگ کااظہار ہے جومیدانوں میں نہیں بلکہ ذہنوں،منصوبوں اورخفیہ کمروں میں لڑی جارہی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی نے بھارت کی خفیہ کمیونیکیشن کوڈی کوڈکرلیاہے۔یہ عمل کسی معمولی تکنیکی مہارت کانتیجہ نہیں بلکہ یہ جہاں برسوں کی تربیت،صبر آزماتحقیق اورفکری ژرف نگاہی کاثمرہے وہاں فکری بیداری،قومی غیرت اور پیشہ ورانہ بصیرت کامظہرہے ۔یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ جدیددنیامیں معلومات ہی اصل طاقت ہیں۔گویااسرارکے دبیزپردے کو چاک کرکے گویاتاریکی کے سینے میں چھپے رازوں کوچراغِ تدبرسے روشن اورحقیقت کی کرن کونمایاں کردیاگیاہو۔یہ کامیابی اس امرکی دلیل بھی ہے کہ جدیدجنگیں اب بارودسے نہیں بلکہ معلومات سے لڑی جاتی ہیں،اورجس کے پاس معلومات کا خزانہ ہووہی اصل میدان کافاتح ہوتاہے۔اس تناظرمیں پاکستان کی یہ کامیابی نہ صرف دفاعی اورذہنی برتری کامظہرہے بلکہ سفارتی سطح پربھی ایک مضبوط دلیل فراہم کرتی ہے کہ یہ کامیابی دراصل دشمن کے ارادوں کو قبل ازوقت سمجھ کرانہیں ناکام بنا کر اپنی عسکری ٹیکنالوجی کابھی بہترین اعلان ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فالس فلیگ آپریشن کوئی نیاحربہ نہیں،بلکہ تاریخ کاایک تلخ باب ہیں۔جہاں جھوٹ کوسچ کے قالب میں ڈھال کر پیش کیاجاتاہے۔یہ حکمت عملی کامقصددراصل عالمی رائے عامہ کوگمراہ کرکے اپنے اقدامات کوجائزقراردیناہوتاہے۔یہ وہ پراناہتھیارہے جسے طاقتورریاستیں اپنے مذموم عزائم کوجوازدینے کیلئیاستعمال کرتی رہی ہیں۔جونہی مصدقہ اطلاعات کے مطابق معلوم ہواکہ بھارت ایک با پھراسی مکارروش کواستعمال کرنے کی تیاری میں ہے،تاکہ اپنے اقدامات کوجوازفراہم کیاجاسکے توپاکستانی اداروں نے اسے فوری طورپرناکام بنانے کیلئے شواہدکے ساتھ اس کوناکام بنانے کاآپریشن شروع کردیا۔یہاں بھی یہی اندیشہ ظاہرکیاجارہاہے کہ ایک مصنوعی واقعہ تخلیق کرکے اس کاالزام پاکستان پرڈالنے کی تیاری کی جارہی ہے۔جس کیلئے پاکستانی قیدیوں کورہاکرکے استعمال کرنے کاارادہ ظاہرکیاگیاہے۔یہ طرزِعمل اس کہاوت کی عملی تصویرہے کہ ’’چور مچائے شور‘‘، تاکہ اصل مجرم خودکوپرد اخفامیں رکھ سکے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی منصوبے میں پاکستانی قیدیوں کواستعمال کرنے کاارادہ شامل ہے،جنہیں مقبوضہ کشمیرکے سرحدی علاقوں میں لے جاکرکسی کارروائی کاحصہ بنایاج سکتاہے۔یہ عمل نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی اقدارکی کھلی توہین بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی بھی عکاسی کرتاہے۔قیدی،جو پہلے ہی بے بسی کی علامت ہوتے ہیں،انہیں سیاسی کھیل کامہرہ بناناظلم کی انتہاہے۔اس سے بڑھ کرانسانیت کی تضحیک اورکیاہوسکتی ہے کہ بے بس افرادکوسیاسی کھیل کامہرہ بنادیا جائے۔یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست اپنی اخلاقی بنیادیں کھودیتی ہے اورمحض طاقت کے بے رحم کھیل میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
اس منصوبے کامقصدایک مصنوعی واقعہ تخلیق کرکے اس کاالزام پاکستان پرعائد کرناہے،تاکہ سرحدی کشیدگی کوہوادی جاسکے۔ذرائع کے مطابق اس ممکنہ کارروائی کے بعداس کا الزام پاکستان پرعائد کرکے جہاں سرحدی کشیدگی کوہوادینے کی کوشش ہوگی وہاں پاکستان میں جاری امن مذاکرات کوسبوتاژکیاجاسکے۔یہ حربہ اس پرانے اصول پرمبنی ہے کہ پہلے جرم کرو، پھر شورمچا۔ یہ وہی پراناحربہ ہے جس کے ذریعے جنگوں کوجواز فراہم کیاجاتارہاہے۔
ایسی حکمت عملی نہ صرف خطے کوجنگ کے دہانے پر لے جاتی ہے بلکہ عالمی امن کوبھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف دو ممالک بلکہ پوری دنیا متاثر ہوتی ہے،کیونکہ جدیددنیامیں کسی بھی خطے کاعدم استحکام عالمی سطح پر اثراندازہوتاہے یہ حکمتِ عملی تاریخ کے ان سیاہ ابواب کی یاد دلاتی ہے جہاں جنگ کے شعلے جھوٹ کی چنگاری سے بھڑکائے گئے۔
بھارت کابنیادی مقصدپاکستان کی فوج کومشرقی سرحدپرمصروف رکھنابتایاجارہاہے،تاکہ اس کی توجہ تقسیم ہوجائے اوردیگرمحاذوں پر اس کی توجہ کمزورکی جاسکے۔یہ ایک کلاسیکی عسکری حکمت عملی ہے جس میں دشمن کومختلف محاذوں پر الجھا کراس کی قوت کو تقسیم کیاجاتاہے۔تاہم یہ حقیقت بھی نظراندازنہیں کی جاسکتی کہ ایسی حکمت عملی اکثرالٹااثربھی ڈالتی ہے اورخطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کاسبب بن سکتی ہے۔یہ اقدام اس بات کاغمازہے کہ دشمن براہِ راست مقابلے کی بجائے بالواسطہ مکروہ سازشوں کوترجیح دے رہا ہے۔
جہاں تاریخ کے اوراق گواہ ہیں وہاں ماضی کے کئی واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فالس فلیگ آپریشنز کی اس نوعیت کی کارروائیاں نئی نہیں۔چھتی سنگھ پورہ کاواقعہ، ممبئی حملے،پٹھانکوٹ،اورکشمیر میں حالیہ دہشتگردی ،یہ سب ایسے واقعات ہیں جن پرسوالیہ نشان ہمیشہ موجود رہا۔ حتی کہ بین الاقوامی سطح پربھی بھارت پرالزامات لگتے رہے ہیں،جن میں بیرونِ ملک سکھ رہنماں کے قتل کے واقعات شامل ہیں۔نکہل گپتاکے اعتراف نے بھی اس بحث کوتقویت دی ہے،اوراس بیانیے کومضبوط کیاہے کہ خفیہ کارروائیاں عالمی سیاست کاحصہ رہی ہیں جس نے عالمی سطح پرتشویش کوجنم دیاکہ خفیہ ایجنسیاں بعض اوقات اپنے سیاسی مقاصد کیلئے غیرروایتی طریقے اختیارکرتی ہیں۔ یہ تمام واقعات اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی سیاست میں اخلاقیات اکثرپس منظرمیں چلی جاتی ہیں۔(جاری ہے)