انٹارکٹیکا(نیٹ نیوز)دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ 40 سال بعد غائب ہوگیا۔A23aنامی دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ انٹارکٹیکا اور جنوبی بحر کے پانیوں میں تقریباً 40 سال تک تیرتے رہنے کے بعد اب تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ آئس برگ 1986 میں انٹارکٹیکا کے 'فلچنر آئس شیلف' (Filchner Ice Shelf) سے الگ ہوا تھا، 1991 میں 'A23' نامی ایک بڑے آئس برگ سے الگ ہونے کے بعد اسے 'A23a' کا نام دیا گیا۔اپنے عروج کے وقت A23a کا رقبہ تقریباً 2ہزار مربع میل پر محیط تھا جو تقریباً بالی (Bali) جزیرے کے برابر ہے۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق یہ کئی دہائیوں تک 'ویڈل سی' (Weddell Sea) میں پھنسا رہا اور اس کا نچلا حصہ سمندر کی تہہ پر ٹکا ہوا تھا، یہ آئس برگ بالآخر 2020 میں حرکت کرنے لگا اور پھر سمندری دھاروں کے ساتھ بہتے ہوئے یہ نومبر 2023 میں جنوبی سمندر کے کھلے پانیوں تک پہنچ گیا۔ رپورٹس میں اسے حرکت کرنے والا سب سے بڑا آئس برگ قرار دیا گیا، کھلے پانی تک پہنچنے کے بعد A23a نے ایک غیر متوقع موڑ لیا اور شمال کی طرف جانے کے بجائے یہ مارچ 2024 میں ایک طاقتور سمندری دھارے میں پھنس گیا جسے ٹیلر کالم کہا جاتا ہے۔یہ آئس برگ نومبر 2024 میں آزاد ہونے سے پہلے تقریباً 8 ماہ تک بار بار گھومتا رہا اور پھر گرم پانیوں میں داخل ہوتے ہی اس کی برف پگھلتی رہی ، مارچ 2025 میں یہ جزیرے سے تقریباً 70 میل دور جنوبی جارجیا کے قریب دوبارہ پھنس گیا۔جون 2025 تک اس کا رقبہ 1200 مربع میل سے کم ہوگیا جس کا مطلب تھا کہ یہ اب دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ نہیں رہا، جنوری 2026 میں لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں برفانی تودے کے ارد گرد کلوروفل کے بادل (plumes) دکھائی دیے۔امریکی نیشنل آئس سینٹر نے مارچ 2026 میں A23a کی باضابطہ نگرانی روک دی کیونکہ اس کا سائز مقرر کیے گئے معیار سے کم ہوگیا تھا، مارچ اور اپریل کی سیٹلائٹ تصاویر میں آئس برگ کو چھوٹے حصوں میں ٹوٹتے اور Southern Ocean میں پھیلتے ہوئے دکھایا گیا۔ سائنسدانوں نے بعد میں مزید ایسے ٹکڑوں کی نشاندہی کی جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ کبھی A23a کا حصہ تھے، مئی تک محققین خلا سے بھی اس برفانی تودے کے چھوٹے چھوٹے باقیات دیکھتے رہے ہیں تاہم تقریباً 4 دہائیوں تک برقرار رہنے کے بعد اب خیال کیا جاتا ہے کہ A23a کا بیشتر حصہ پگھل کر ختم ہو چکا ہے۔