لانگ مارچ ملتوی نہ کرنا اور انسداد دہشت گردی پر معاہدہ نہ ہونا ڈیڈ لاک کی وجہ بنا ، حکومتی کمیٹی مکمل بااختیار تھی اور مسلسل لچک دکھاتی رہی
اسلام آباد(آئی این پی )حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کی وجہ لانگ مارچ ملتوی نہ کرنا اور انسداد دہشت گردی پر معاہدہ نہ ہو نے پر ڈیڈ لاک بنی ۔ذرائع کے حوالے سے میڈیارپورٹ کے مطابق اپوزیشن اراکین پر بیرونی دبا ئو کی وجہ سے کئی بار ڈیڈلاک آیا، حکومتی کمیٹی مکمل بااختیار تھی اور مسلسل لچک دکھاتی رہی، اپوزیشن کمیٹی کے اراکین محمود اچکزئی اور سہیل آفریدی کے نامناسب مطالبات پر دبا ئو میں آگئے۔ مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ اپوزیشن قیادت اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان شدید اختلافات بھی تھے، اپوزیشن اراکین انسداد دہشت گردی بارے وفاق اور ریاستی پالیسیوں کے مطابق چلنے پر تیار تھے، خیبر پختونخوا حکومت نے تعاون سیانکار کردیا۔ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع میں وفاقی حکومت کی مدد سے بھی انکار کردیا، مذاکراتی کمیٹی کے لیے حیران کن تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلیے وفاق کے ساتھ چلنے کو کیوں تیار نہیں۔خیبر پختونخوا حکومت نے معاہدے پر اتفاق رائے سے قبل ہی لانگ مارچ کا بار بار بیان دیا، ۔حکومت اور ادارے باقی امور پر لچک دکھانے کو تیار تھے، خیبر پختونخوا حکومت کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات ناکامی میں کلیدی کردار محمود اچکزئی نے بھی ادا کیا جو پوری مذاکراتی کمیٹی پر حاوی تھے، محمود اچکزئی ہر چیز کو بانی چیئرمین سے ملاقات اور رہائی سے جوڑتے رہے، ایک موقع پر حکومت بیرسٹر گوہر کی بانی چیئرمین سے ملاقات پر تیار ہوگئی تھی۔ ذرائع کے مطابق لانگ مارچ ملتوی نہ کرنا اور انسداد دہشت گردی پر معاہدہ نہ ہونا ڈیڈ لاک کی وجہ بنا۔