وہ قلم جو جھک نہ سکا

 یاسمین اختر طوبیٰ
کبھی آپ نے یہ سوال اپنے آپ سے کیا ہے کہ سچ کی اصل قیمت کیا ہوتی ہے؟ بظاہر یہ چند لفظوں کا مجموعہ لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسا بوجھ ہے جسے اٹھانے کے لیے غیر معمولی حوصلہ، استقامت اور قربانی درکار ہوتی ہے۔ ہر سال عالمی یوم آزادی صحافت ہمیں اسی حقیقت کے روبرو کھڑا کر دیتا ہے کہ سچ لکھنا صرف پیشہ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے، ایسا عہد جس کی پاسداری ہر دور میں مشکل رہی ہے، اور ہر دور میں اس کے امین کم ہوتے گئے ہیں۔صحافت کی بنیاد اصولوں پر رکھی گئی ہے: سچائی، غیر جانبداری اور عوامی مفاد۔ مگر جب یہ اصول طاقت کے ایوانوں، سرمایہ دارانہ مفادات اور سیاسی دباؤ سے ٹکراتے ہیں تو اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک عام قلم اور ایک بااصول قلم کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے۔ ایک قلم وہ ہے جو حالات کے مطابق جھک جاتا ہے، اور دوسرا وہ جو ہر طوفان کے باوجود سیدھا کھڑا رہتا ہے، وہی قلم جو جھک نہ سکا، وہی قلم جو ضمیر کی آواز بنتا ہے۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ہر معاشرے میں ایسے ادوار آئے ہیں جہاں سچ کو دبانے کی منظم کوشش کی گئی۔ سنسرشپ، پابندیاں، اور اظہارِ رائے پر قدغنیں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کچھ آوازیں ہمیشہ باقی رہیں، وہ آوازیں جو نہ خریدی جا سکیں، نہ ڈرائی جا سکیں، نہ ہی وقتی مفادات کے سامنے بک سکیں۔ یہی آوازیں دراصل صحافت کی اصل روح ہیں۔ اگر یہ خاموش ہو جائیں تو معاشرہ محض معلومات کا نہیں بلکہ گمراہ کن بیانیوں، افواہوں اور فکری اندھیروں کا شکار ہو جاتا ہے۔آج کے جدید دور میں، جہاں معلومات کی ترسیل لمحوں میں سرحدیں عبور کر جاتی ہے، وہاں سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز مزید مشکل ہو گئی ہے۔ اطلاعات کی اس یلغار میں حقائق اکثر شور میں دب جاتے ہیں، اور رائے کو حقیقت کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔ ایسے میں ایک ذمہ دار، باشعور اور بے باک صحافی کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ وہی شور میں سے سچ کی آواز کو پہچان کر آگے بڑھاتا ہے۔
مزید برآں، حالاتِ حاضرہ یہ بتاتے ہیں کہ صحافی صرف خبر دینے والا نہیں رہا بلکہ وہ ایک ایسے محاذ پر کھڑا ہے جہاں اسے بیک وقت کئی طاقتوں کا سامنا ہے، ریاستی دباؤ، کارپوریٹ مفادات، عوامی توقعات اور ذاتی سلامتی کے خدشات۔ کئی مواقع پر اسے دھمکیوں، مقدمات، معاشی دباؤ اور سماجی تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود جو قلم سچ کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، وہ محض ایک پیشہ ور نہیں بلکہ ایک مجاہدِ فکر ہوتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سچ لکھنے کا عمل صرف صحافی تک محدود نہیں رہتا، یہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ جب قاری سچ کی قدر کرنا چھوڑ دے، جب معاشرہ سوال اٹھانے والوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے، تو سچ کا سفر مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ اس لیے ایک باشعور معاشرے کی پہچان صرف آزاد صحافت نہیں بلکہ سچ سننے اور قبول کرنے کا حوصلہ بھی ہے۔تمام تر تناظر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ قلم جو جھکنے سے انکار کرتا ہے، محض ایک علامت نہیں بلکہ ایک مزاحمت ہے، ایسی مزاحمت جو اندھیروں میں روشنی کی کرن بنتی ہے، جو خاموشی میں سوال اٹھاتی ہے، اور جو جبر کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہی قلم عوام کو حقائق سے روشناس کراتا ہے، غلط بیانیوں کو بے نقاب کرتا ہے، اور طاقت کے مراکز کو جوابدہ بناتا ہے۔لہٰذا، یہ "عالمی یومِ آزادی صحافت"صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک سنجیدہ دعوتِ فکر ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر سچ لکھنے والے قلم کمزور پڑ گئے تو صرف صحافت ہی نہیں، بلکہ پورا معاشرہ فکری زوال کا شکار ہو جائے گا۔ ہمیں نہ صرف ایسے قلمکاروں کی قدر کرنی چاہیے بلکہ ایک ایسا ماحول بھی تشکیل دینا ہوگا جہاں سچ کہنا جرم نہ ہو بلکہ فخر سمجھا جائے۔گویا، وہ قلم جو جھک نہ سکا، دراصل وہی تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی قلم آنے والی نسلوں کے لیے سچ کی مشعل بن جاتا ہے اور یہی وہ قوت ہے جس پر کسی بھی مہذب، باشعور اور زندہ معاشرے کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔