اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی عمرہ ادائیگی کے لیے اجازت سے متعلق پٹیشن کی سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس جواد حسن اور جسٹس طارق باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔
شیخ رشید احمد عدالت میں اپنے وکیل سردار عبدالرازق خان کے ساتھ پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ جو شخص بروقت واپس آتا رہا ہے، اسے کیوں عمرہ پر جانے سے روکا گیا؟ عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ کی بنیاد پر عمرہ جانے پر پابندی لگانا آئینی حق آزادی نقل و حرکت کے تحت چیلنج کا معاملہ ہے، اور فی الحال واضح نہیں کہ اس کے لیے کوئی مخصوص قانون موجود ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ شیخ رشید کو جی ایچ کیو حملہ کیس کے سلسلے میں روکا گیا۔ وکیل نے مؤقف دیا کہ شیخ رشید کا نام پہلے ہی ای سی ایل سے نکال دیا گیا تھا، لیکن انہیں دوبارہ سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سفر ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔
شیخ رشید نے عدالت میں اپنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک‘ بھی پیش کی، جس پر جسٹس جواد حسن نے کہا کہ کتاب ہائیکورٹ کی لائبریری کو تحریری طور پر دی جا سکتی ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے معاملہ 12 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کی بنیاد پر عمرہ سے روکنے کے معاملے کا مستقل حل تفصیلی سماعت کے بعد نکالا جائے گا۔