عمران اور بشری کو سحر افطار میں کچھ نہیں دیا جا رہا(بیرسٹر سیف )بیان من گھڑت اور بے بنیاد ہے عظمی بخاری

دونوں کو مجبورا اٹھ پہرا روزہ رکھنا پڑ رہا ہے، عبادات سے بھی روکا جا رہا ہے،جعلی حکومت  قیدی سے خوفزدہ ہے:مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا 
دوپہر12بجے اٹھنے والا روزہ کیسے رکھ سکتا ہے؟ میاں بیوی کو معمول کے مطابق  کھانے پینے کے لوازمات مہیا کئے جارہے ہیں،وزیر اطلاعات پنجاب
پشاور‘لاہور(آئی این پی)مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے دعوی کیا ہے  عمران خان اور بشری بی بی کو سحر و افطار میں کچھ نہیں دیا جا رہا۔اپنے بیان میں ترجمان کے پی حکومت بیرسٹر سیف نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، رمضان المبارک میں اذیت دینا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ عمران خان اور بشری بی بی کو سحری و افطار میں کچھ فراہم نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے دعوی کیا کہ دونوں کو مجبورا نہار منہ روزہ رکھنا پڑ رہا ہے۔ انہیں عبادات سے بھی روکا جا رہا ہے۔بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ جعلی حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کے باعث عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ جعلی حکومت ایک قیدی سے خوفزدہ ہے۔ ملاقاتوں پر پابندی عدالتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔دریں اثناء وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق خاتون اول بشری بی بی کو جیل میں کھانا نہ دینے کا بیان من گھڑت اور بے بنیاد ہے، دونوں میاں بیوی کو معمول کے مطابق ان کے کھانے پینے کے لوازمات مہیا کیے جارہے ہیں۔ جو شخص دوپہر 12بجے اٹھتا ہو وہ روزہ کیسے رکھ سکتا ہے، بانی پی ٹی آئی کو ہفتے میں تین دن گوشت، سبزیاں، دالیں، چقندر کا جوس مل رہا ہے، بانی پی ٹی آئی کو کافی، بوائل انڈے اور خشک میوہ جات کھانے کو ملتے ہیں، بشری بی بی کا کھانے کو جو دل چاہتا وہ مہیا کیا جاتا ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ پشاور میں بیٹھے ایک شخص کو خواب آیا ہے ان کے آ قا کو جیل میں کھانا نہیں مل رہا، دو روز قبل انکی جماعت کے ترجمان نے بھی بانی پی ٹی آئی کی بیماری سے متعلق جھوٹ بولا۔ان کا کہنا تھا کہ  کل پمز کے چار سینئر ڈاکٹروں کی ٹیم نے آدھا گھنٹہ انکا تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے، ڈاکٹروں نے بانی پی ٹی آئی کو مکمل صحت مند قرار دیا ہے