چین کے صدر شی جن پنگ اگلے ہفتے تقریباً 7 سال بعد شمالی کوریا کا سرکاری دورہ کریں گے، جو دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کی بحالی اور خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دورے کا باضابطہ اعلان آج دونوں ممالک کی جانب سے کیا گیا ہے۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے اعلیٰ سطحی چینی قیادت کا پیانگ یانگ کا براہ راست رابطہ محدود رہا ہے۔ماہرین کے مطابق شی جن پنگ کا یہ دورہ شمال مشرقی ایشیا میں چین کے اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شمالی کوریا اور روس کے تعلقات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے حالیہ برسوں میں روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے، جس میں یوکرین جنگ کے تناظر میں مبینہ فوجی تعاون بھی شامل ہے۔ تاہم اسی دوران پیانگ یانگ کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ بہتر بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں، کیونکہ چین اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اہم امدادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان تعلقات میں توازن پیدا کرنا شمالی کوریا کے لیے ایک اہم سفارتی چیلنج بن چکا ہے، جبکہ چین اپنے دیرینہ اتحادی پر اثر و رسوخ برقرار رکھنے اور خطے میں امریکی و روسی اثرات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے تجزیہ کار ولیم یانگ کے مطابق چین اس دورے کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ پیانگ یانگ پر اپنا اثر دوبارہ مضبوط کیا جا سکے اور خطے میں اپنی سفارتی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقی ایشیا میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور بڑی عالمی طاقتیں اپنے اسٹریٹجک اتحادوں کو نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہیں۔