گھروں کا استعمال شدہ تیل اب بنے گا جہازوں کا ایندھن، جاپان کی نئی ماحول دوست مہم

گھروں کا استعمال شدہ تیل اب بنے گا جہازوں کا ایندھن، جاپان کی نئی ماحول دوست مہم

جاپان نے فضائی صنعت کو ماحول دوست بنانے کے لیے ایک بڑے اور جدید منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے جس کے تحت استعمال شدہ کوکنگ آئل کو پائیدار ایوی ایشن فیول (SAF) میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

حکومت اور نجی شعبے کے اشتراک سے شروع کیے گئے اس منصوبے کا مقصد روایتی جیٹ فیول پر انحصار کم کرنا اور کاربن اخراج میں نمایاں کمی لانا ہے۔ اس حوالے سے ملک بھر میں "فرائی ٹو فلائی" کے نام سے ایک مہم بھی جاری ہے جس کے تحت شہریوں، ہوٹلوں اور کاروباری مراکز کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ استعمال شدہ کھانے کا تیل ضائع کرنے کے بجائے مخصوص مراکز پر جمع کروائیں۔اس مہم کے ذریعے جمع ہونے والا تیل ریفائننگ اور کیمیکل پراسیسنگ کے بعد ماحول دوست جیٹ فیول میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ کچھ شہری سالانہ درجنوں لیٹر تک تیل جمع کرا رہے ہیں، جس سے منصوبے کو ابتدائی سطح پر عوامی پذیرائی بھی حاصل ہو رہی ہے۔توانائی ماہرین کے مطابق جاپان نے 2030 تک اپنی فضائی ایندھن کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ پائیدار ذرائع سے پورا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس ہدف کے لیے تقریباً 1.7 ملین کلو لٹر SAF درکار ہوگا، تاہم اس وقت ملک میں پیداوار صرف 30 ہزار کلو لٹر کے قریب ہے، جو مجموعی طلب کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔

یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ جاپان کو اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے پیداوار میں کئی گنا اضافہ کرنا ہوگا۔ اس وقت سب سے بڑا چیلنج خام مال کی محدود دستیابی، بڑے پیمانے پر پروسیسنگ انفراسٹرکچر کی کمی اور لاگت میں اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مقامی سطح پر خام مال کی فراہمی ناکافی رہی تو جاپان کو مستقبل میں SAF درآمد بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ٹوکیو اور دیگر شہروں میں انتظامیہ نے مہم کو وسعت دیتے ہوئے لاکھوں گھروں تک آگاہی مہم شروع کر دی ہے، جبکہ سپر مارکیٹس اور ریٹیل چینز بھی اس عمل میں شامل ہو رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ تیل اکٹھا کیا جا سکے۔توانائی اور ماحولیات کے ماہرین کے مطابق یہ اقدام کاربن اخراج میں کمی، گرین انرجی کے فروغ اور فضائی آلودگی کم کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم 2030 کے اہداف حاصل کرنے کے لیے مزید سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط سپلائی چین کی ضرورت ہوگی۔