وفاقی آئینی عدالت نے زیادتی کیخلاف خاتون کی درخواست خارج کر دی

 ریپ، شادی اور طلاق کا یہ سلسلہ بہت جلدی نہیں ہو گیا،  ایسے واقعات فلمی کہانیوں جیسے لگتے ہیں
 اگر خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اسی شخص سے شادی کیوں کی گئی‘شادی ہوگئی تو طلاق کیوں ہوئی:ریمارکس
اٗسلام آباد (آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے زیادتی کے خلاف خاتون کی درخواست خارج کر دی۔عدالت نے ریمارکس دیئے ریپ، شادی اور طلاق کا یہ سلسلہ بہت جلدی نہیں ہو گیا، اور ایسے واقعات فلمی کہانیوں جیسے لگتے ہیں۔یہ ریمارکس جمعرات کے روزدیے ہیں جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے اگر خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اسی شخص سے شادی کیوں کی گئی۔ وکیلِ ملزمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے خاتون سے شادی کی۔اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اگر شادی ہو گئی تھی تو پھر خاتون کو طلاق کیسے ہوئی۔ وکیلِ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ مبینہ زیادتی 17 جون 2025 کو ہوئی، جبکہ 26 جون کو دونوں کی شادی ہوئی اور 6 اگست کو ملزم نے خاتون کو طلاق دے دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ریپ، شادی اور طلاق کا یہ سلسلہ بہت جلدی نہیں ہو گیا، اور ایسے واقعات فلمی کہانیوں جیسے لگتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے خاتون کی درخواست خارج کر دی۔