واشنگٹن (ویب ڈیسک) : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت امیگریشن پالیسی اختیار کرتے ہوئے 12 ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ اقدام امریکی شہریوں اور مفادات کو دہشت گرد حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
سفری پابندی کا نیا حکم نامہ
وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت درج ذیل ممالک کے شہری امریکا میں داخل نہیں ہو سکیں گے:افغانستان، برما (میانمار)، چاڈ، جمہوریہ کانگو، استوائی گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن۔
سکیورٹی خدشات اور دہشت گردی کے واقعات بنیاد
صدر ٹرمپ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ "گزشتہ دنوں کولوراڈو میں پیش آنے والا دہشت گرد حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر ملکی شہری جو مکمل طور پر ویری فائی نہیں ہوتے، وہ امریکا کے لیے سنجیدہ خطرہ بن سکتے ہیں۔"انہوں نے کہا کہ ان ممالک سے آنے والے افراد کی مکمل سکیورٹی کلئرنس ممکن نہیں ہوتی، اس لیے ان پر عارضی یا مستقل سفری پابندیاں ضروری ہیں۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے غیر ملکی طالب علم بھی متاثر
نئے احکامات کے تحت صرف عام مسافروں ہی نہیں بلکہ امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طالب علموں پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ خصوصاً ہارورڈ یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ایسے طلبا جو مذکورہ ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے ویزے منسوخ کیے جا سکتے ہیں یا نئے ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔
بین الاقوامی سطح پر ردعمل کا امکان
ٹرمپ انتظامیہ کے اس نئے فیصلے پر دنیا بھر میں شدید ردعمل متوقع ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں، تعلیمی ادارے اور متاثرہ ممالک کی حکومتیں اس فیصلے کو امتیازی، متعصبانہ اور عالمی اصولوں کے منافی قرار دے سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق یہ نئی پالیسی ٹرمپ کی انتخابی مہم کا حصہ ہو سکتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی امیگریشن مخالف پالیسیوں کو مزید اجاگر کر رہے ہیں، تاکہ وہ قدامت پسند ووٹ بینک کو متحرک رکھ سکیں۔