بلوچستان کے ضلع نوشکی میں سیکیورٹی کے سنگین چیلنجز سامنے آئے ہیں، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے احمد وال ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال بردار ٹرین کو راکٹ سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ٹرین کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
خوش قسمتی سے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ریلوے حکام کے مطابق ٹرین گزشتہ پانچ دن سے اسٹیشن پر کھڑی تھی، اور راکٹ کے لگنے سے انجن مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا ہے۔ اب ٹرین کو منتقل کرنے کے لیے دوسرا انجن بھیجا جانا ہے، تاہم ابھی تک متبادل انجن نہیں پہنچ سکا۔ سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ریلوے ٹریک اور سامان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ احمد وال ریلوے اسٹیشن نوشکی اور آس پاس کے علاقوں کے لیے اہم لاجسٹک پوائنٹ ہے، جہاں سے سامان کی ترسیل معمول کے مطابق ہوتی ہے۔اسی علاقے میں گلنگور کے مقام پر بھی نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے نیشنل ہائی وے پر ایک اہم پل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پل کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ اس سے آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے اور نوشکی کے دیگر اضلاع سے رابطہ محدود ہو گیا ہے۔
پولیس نے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم ابھی تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سیکیورٹی فورسز نے احمد وال اور آس پاس کے علاقوں میں گشت بڑھا دیا ہے۔حالیہ واقعات بلوچستان میں ریلوے اور شاہراہوں پر بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں گزشتہ چند ماہ میں متعدد حملوں نے ٹرانسپورٹ سسٹم اور روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال پر مکمل کنٹرول ہے، تاہم علاقے میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حملے روکے جا سکیں۔