ڈاکٹر جمشید نظر
اگر آپ دنیا کے نقشے پر غور کریں تو پتہ چلے گا کہ کچھ خطے ایسے بھی ہیں جو صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کا ایسازخم ہوتے ہیں جو ہمیشہ تازہ رہتا ہے۔مقبوضہ کشمیر بھی ایسا ہی ایک زخم ہے جو گذشتہ 78 برسوں سے رس رہا ہے اس زخم پر اقوام متحدہ نے ہمدردی کی پٹیاں تو لگائیں لیکن انصاف کی دوا کبھی نہیں دی۔ 1947 میں جب برصغیر تقسیم ہوا تو کشمیر ایک تنازعہ بن گیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ تنازعہ سیاسی نہیں رہا بلکہ انسانی المیہ بن گیا۔ اقوامِ متحدہ نے کشمیریوں کو حقِ خودارادیت کا وعدہ دیا، قراردادیں پاس ہوئیں، اجلاس ہوتے رہے، فائلیں بنتی رہیں مگر کشمیری آج بھی اسی سوال کے ساتھ زندہ ہیں’’کیا ہم کبھی آزاد سانس لے سکیں گے؟‘‘ مقبوضہ کشمیر کے پہاڑ بول سکتے تو وہ بتاتے کہ انہوں نے کتنی ماؤں کو اپنے بیٹوں کے جنازے اٹھاتے دیکھا، کتنی بیٹیوں کی آنکھوں سے مستقبل چھنتا دیکھا،کتنی خواتین کی چادر چاردیواری اور عزتوں کا تقدس پامال ہوتے دیکھا اور کتنے گھروں کو لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بنتے دیکھا۔
پاکستان ہر سال 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر مناتا ہے۔ یہ دن صرف اس لئے نہیں منایا جاتا کہ صرف تقاریر یا ریلیاں منعقد کی جائیں بلکہ اس دن کو منانے کا مقصد اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کے لئے منایا جاتا ہے ۔ یہ دن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ سرحد کے اُس پار ہمارے اپنے لوگ ہیں جو آج بھی آزادی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس خواب کو پورا کرنے کی تگ و دو میں ہزاروں کشمیری مسلمان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔روزانہ کی بنیاد پربھارتی فوج کے مظالم ،پرتشدد کارروائیاں اور مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات ہورہے ہیں جبکہ مودی سرکار دنیا میں جھوٹا پراپیگنڈہ کرتی رہتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹس کے مطابق دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی مقبوضہ وادی کے شہروں ،قصبوںاور دیہاتوں پر قابض ہیں اور 1989 سے لے کر اب تک 96 ہزار سے زائد کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں۔ یہ تعداد کسی جنگ کی نہیں، ایک ریاستی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد تو حالات مزید خراب ہوئے۔ سینکڑوں نوجوان مارے گئے، ہزاروں گرفتار ہوئے، گھروں اور دکانوں کو جلایا گیا، عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوئے پھر بھی بھارت امن کا ڈھونگ کرتا رہتا ہے اگر سب ٹھیک ہے تو پھر مقبوضہ وادی میںہزاروں بھارتی فوجی کیوں تعینات ہیں، انٹرنیٹ کیوں بند کیا جاتا ہے، صحافیوں کو کیوں ڈرایا جاتا ہے اور کشمیریوں کو بولنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟
اب یہ مسئلہ صرف پاکستان اور بھارت کا نہیں بلکہ یہ انسانیت کا بھی مسئلہ ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی طاقتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اگر واقعی انصاف پر یقین رکھتی ہیں تو انہیں کشمیریوں کے لئے آواز اٹھانا ہوگی ورنہ تاریخ انہیں بھی خاموش تماشائیوں میں شمار کرے گی۔کشمیر کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، یہ ایک ادھورا باب ہے اور تاریخ گواہ ہے ادھورے باب ہمیشہ مکمل ہوتے ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب وادی کے پہاڑ گولیوں کی آواز سے نہیں بلکہ آزادی کے نعروں سے گونجیں گے اور اس دن کوئی ماں اپنے بیٹے کو رخصت کرتے وقت خوفزدہ نہیں ہوگی۔اس دن کشمیرصرف ایک خطہ نہیں بلکہ آزادی کی علامت بن جائے گا جہاں فضاوں میںبارودکی بو نہیں ہوگی بلکہ آزادی کی خوشبو پھیلے گی۔