صوبے میں تنظیم واضح گروہ بندی کاشکار، سینیٹر مولانا عبدالواسع، حافظ حمداللہ گروپوں کی قیادت کر رہے ہیں،ذرائع
دھاندلی ثابت ہونے پر صوبائی مجلس عامہ نے یہ اقدام اٹھایا چھ ماہ کے لیے نگراں کونسل تشکیل دیدی ہے،سید محمود شاہ
کوئٹہ(آئی این پی ) بلوچستان کی تیسری بڑی پارلیمانی جماعت جمعیت علمائے اسلام ( ف) میں اختلافات شدت اختیار کر گئے۔صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے جے یو آئی کے ضلع کوئٹہ کے انتخابات کالعدم قرار دے کر ضلعی کابینہ تحلیل کر دی ۔صوبائی قیادت اس اقدام کی وجہ انتخابات میں دھاندلی قرار دے رہی ہے ۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال سینیٹر مولانا عبدالواسع اور حافظ حمداللہ کے درمیان اختلافات اور جماعت کے اندر گروہ بندی کا نتیجہ ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جے یو آئی کے فعال کارکنوں نے بھی اس عمل پر تنقید کی ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق جے یو آئی کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بلوچستان میں تنظیم واضح گروہ بندی کا شکار ہے۔ ایک گروہ کی قیادت سینیٹر مولانا عبدالواسع، جبکہ دوسرے گروہ کی سربراہی سابق سینیٹر حافظ حمداللہ کر رہے ہیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف صوبائی امیر کے عہدے کا انتخاب بھی لڑا جس میں مولانا عبدالواسع کامیاب ہو گئے۔جے یو آئی کے رہنما کے مطابق ضلع کوئٹہ کے انتخابات حافظ حمداللہ کے حامی گروپ نے جیتے اور مولانا عبدالرحمان رفیق ضلعی امیر بنے جبکہ مولانا عبدالواسع کے حامیوں سابق ضلعی امیر مولانا ولی محمد ترابی اور سابق صوبائی وزیر عین اللہ شمس کو شکست ہوئی۔ مولانا عبدالواسع نے بظاہر تو ضلعی انتخابات میں دھاندلی کو وجہ بتاتے ہوئے کالعدم قرار دیا ہے لیکن اس کے پیچھے اصل وجہ تنظیمی اختلافات اور گروہ بندی ہی ہے۔تاہم جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مولانا سید محمود شاہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے تنظیمی اختلافات کے تاثر کو رد کیا اور کہا کہ ستمبر 2024میں ہونے والے ضلعی انتخابات میں دھاندلی کی شکایات پر کمیٹی بنائی گئی تھی۔ کمیٹی اور صوبائی کنوینیئر کی رپورٹ کے نتیجے میں دھاندلی ثابت ہونے پر صوبائی مجلس عامہ نے یہ اقدام اٹھایا اور ضلعی کابینہ ختم کرکے اس کی جگہ چھ ماہ کے لیے ایک نگراں کونسل تشکیل دے دی ہے۔