ماسکو(آئی این پی )روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے پاس مسلسل خدشات کے باعث اسمارٹ فون موجود ہی نہیں ہے۔فرانسیسی خبر رساںادارے کی رپورٹ کے مطابق 2018 میں ایک ملاقات کے دوران جب روس کے کرسچاتوف نیوکلیئر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ میخائل کووالچک نے روسی صدر سے ملاقات میں کہا تھا کہ ہر کسی کی جیب میں اسمارٹ فون ہوتا ہے تو پیوٹن نے جواب دیا تھا کہ آپ نے کہا سب کے پاس اسمارٹ فون ہیں، لیکن میرے پاس نہیں ہے۔ایک روسی نیوز چینل سے گفتگو میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی تصدیق کی تھی کہ جہاں تک میری معلومات ہیں، پیوٹن کے پاس فون نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسمارٹ فون استعمال کرنا پیوٹن کی سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔اگرچہ عوامی سطح پر اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں موجود ہیں، لیکن پیوٹن نے خود روسی نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ کریملن کے اندر موبائل فون مکمل طور پر ممنوع ہیں، جہاں صدر کی رہائش گاہ اور سرکاری دفاتر بھی واقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسمارٹ فون استعمال نہیں کرتے اور ضرورت پڑنے پر سرکاری لائن کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں