بنگلہ دیش: نئی سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی انتخابی مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام

 ہماری تنظیم کمزور ہے کیونکہ ہمارے پاس کافی وقت نہیں تھا، ہم اس صورتحال سے واقف ہیں، مگر چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں
ڈھاکہ (آئی  این پی )بنگلادیش میں نئی سیاسی جماعت، نیشنل سٹیزن پارٹی، جو اس سال طویل عرصے سے حکمران شیخ حسینہ کو ہٹانے والے طلبہ نے قائم کی، اب اپنے سڑکوں پر حاصل کردہ مقبولیت کو ووٹوں میں تبدیل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ مضبوط حریف، مالی قلت اور غیر واضح پالیسیوں نے پارٹی کی انتخابی کارکردگی متاثر کر دی ہے، جبکہ اگلے سال ماہ فروری میں ہونے والے انتخابات کے قریب یہ چیلنج اور بڑھ گیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے   کی رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش میں طلبا کی قیادت میں قائم ہونے والی نیشنل سٹیزن پارٹی ملک سے عشروں پر محیط سیاسی خاندانوں اور دو بڑی پارٹیوں کے تسلط کو ختم کرنے کے وعدے کے ساتھ ابھری تھی۔ پارٹی کے سربراہ ناہید اسلام نے کہا کہ ہماری تنظیم کمزور ہے کیونکہ ہمارے پاس اسے مضبوط کرنے کے لیے کافی وقت نہیں تھا۔ ہم اس صورتحال سے واقف ہیں، مگر چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ناہید اسلام 27 سالہ نوجوان ہیں، جو گزشتہ سال ہونے والے حکومت مخالف احتجاج میں نمایاں رہے اور مختصر عرصہ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی کیئر ٹیکر انتظامیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں