بھارت نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا ہے، جس میں فلسطین اور اسرائیل پر مشتمل دو ریاستوں کے قیام کی حمایت شامل ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ، سبرامنیم جے شنکر نے راجیہ سبھا میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارت فلسطینیوں کے حق خودمختاری اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، اور یہ موقف اسرائیل کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔انہوں نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد فلسطینیوں کے حقوق اور آزادی کے لیے اقوام متحدہ میں 13 قراردادیں پیش کی گئی تھیں، جن میں سے بھارت نے 10 کی حمایت کی، جبکہ 3 میں غیر حاضر رہا۔ بھارت کی جانب سے فلسطینی عوام کے لیے امداد فراہم کرنے کی بات بھی کی گئی، جس میں متاثرہ فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد شامل ہے۔
ماضی میں بھارت نے اسرائیل کے ساتھ جدید ہتھیاروں کے لاکھوں ڈالر کے معاہدے کیے تھے، جو فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ اس کے باوجود بھارت اپنے موقف پر قائم ہے کہ فلسطینی عوام کا حق ہے کہ وہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست قائم کریں، اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کے حقوق کی حمایت کرے۔اس بیان کے ذریعے بھارت نے عالمی سطح پر اپنے موقف کو واضح کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے دونوں فریقین کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کے حق میں ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی ہے۔