ناقص تفتیش پر شک کا فائدہ ملزموں کو دینا پڑتا ہے: جسٹس محسن کیانی

 تفتیشی کو آج بھی جائے وقوعہ لکھنا نہیں آتا، ڈاکٹرز کی کیسوں کیلئے تربیت ہونی چاہیے
 دنیا میں چیزیں تبدیل ہو گئی ہیں لیکن ہم ابھی وہیں کھڑے ہیں:تقریب سے خطاب
اسلام آباد(آئی این پی)جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے  جج کو ناقص تفتیش کی وجہ سے تکنیکی بنیاد پر شک کا فائدہ ملزموں کو دینا پڑتا ہے۔پاکستان میں میڈیکو لیگل قانون،  سٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت  پر قومی مکالمے کے عنوان سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ دنیا میں چیزیں تبدیل ہو گئی ہیں لیکن ہم ابھی وہیں کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پوری  دنیا میں فرانزک کے لوگ پولیس ڈیپارٹمنٹ سے الگ سے ہیں۔ فرانزک ڈیپارٹمنٹ کو پولیس سے بالکل الگ کرنا پڑے گا۔ قتل کے ایک کیس میں لیڈی ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایک انجری بھی نہیں لکھی۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ آپ ایک الگ سے قانون بنائیں۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا تفتیش کے حوالے سے کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم آج بھی پرانی پوزیشن پر کھڑے ہیں۔ ہمارے ملک میں تفتیشی کو آج بھی جائے وقوعہ لکھنا نہیں آتا۔جب کیس درست تیار نہیں ہوتا تو شک کا فائدہ تکنیکی بنیادوں پر ملزمان کو ہوتا ہے۔