لاہور (شوبز ڈیسک) اداکارہ شمیم آراکی دسویں برسی(آج) 5اگست کومنائی جائے گی۔1938 میں علی گڑھ میں پیدا ہونے والی شمیم آرا کا اصل نام پتلی بائی تھا لیکن فلمی ضرورت کے تحت بدل کر اسے شمیم آرا کر دیا گیا تھا۔ان کی پہلی فلم کنواری بیوہ تھی جسے باکس آفس پر کچھ خاص کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، البتہ لوگوں کو ایک نئی اداکارہ کا انداز بھا گیا اس کے بعد انہیں مختلف قسم کے کردار ملتے رہے۔1960 میں شمیم آرا نے فلم سہیلی میں نگار ایوارڈ حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا، اس کے بعد انہوں نے 80 سے زیادہ فلموں میں کام کیا جن میں پاکستان کی پہلی رنگین فلم نائلہ بھی شامل ہے۔شمیم آرا کی چند مقبول فلموں میں دیوداس، صائقہ، لاکھوں میں ایک، انارکلی، چنگاری، فرنگی، دوراہا، منڈا بگڑا جائے اور دیگر شامل ہیں۔1989 میں آنے والی پنجابی فلم تیس مار خان شمیم آرا کی بطورِ اداکارہ آخری فلم ثابت ہوئی جس کے بعد انہوں نے ہدایت کاری کے میدان میں قسمت آزمائی کی اور جیو اور جینے دو، پلے بوائے، مس ہانگ کانگ، اور مس کولمبو جیسی فلمیں بنائیں شمیم آرا کو پاکستان کی پہلی کامیاب خاتون ہدایت کارہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، انہوں نے اداکاری میں 6 نگار ایوارڈ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری کے لیے بھی تین نگار ایوارڈ حاصل کیے۔شمیم آرا طویل علالت کے بعد 5 اگست 2016 میں لندن میں78 برس کی عمر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔