مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تنسیخ کو 6 سال مکمل، یومِ استحصال آج منایا جا رہا ہے

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تنسیخ کو 6 سال مکمل، یومِ استحصال آج منایا جا رہا ہے

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 6 سال مکمل ہونے پر یومِ استحصال کشمیر کے حوالے سے ہے، جو آج ملک بھر میں منایا جا رہا ہے۔

اہم نکات:
یومِ استحصال کشمیر:

کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے آج ملک بھر میں یوم استحصال بھرپور طریقے سے منایا جا رہا ہے۔صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ریلیاں، سیمینارز اور تقریبات کا انعقاد ہوگا۔لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بھی کشمیری یوم استحصال منائیں گے۔
پس منظر:

بھارت نے 5 اگست 2019 کو آئین میں ترمیم کرکے آرٹیکل 370 اور 35-A کو ختم کیا، جس سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت چھین لی گئی۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، اس اقدام کے بعد سے:1100 سے زائد املاک نذرِ آتش ہوئیں۔21000 سے زائد کشمیری جیل میں قید ہیں۔وادی میں عسکری محاصرہ مزید سخت کردیا گیا۔
ماہرین اور مبصرین کے بیانات:

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت آزادی کے بعد سے خود کو سیکولر ملک کہتا رہا مگر حقیقت میں وہ ہمیشہ ایک ہندو ریاست رہا ہے۔عالمی ماہر قانون نے کہا کہ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی پامالی خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ ہے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ بھارتی آئینی تاریخ کا سیاہ دن ہے، جو جمہوریت، وفاق اور سیکولرازم پر حملہ ہے۔
مودی سرکار کا ایجنڈا:

کشمیر کے مسلم تشخص کو مسخ کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔آرٹیکل 370 اور 35-A کی تنسیخ جنیوا کنونشن 4 کے آرٹیکل 49 کی خلاف ورزی ہے۔مردم شماری کمیشن نے اکثریتی علاقوں کی نشستیں 83 سے بڑھا کر 90 کر دیں، مگر مسلم اکثریتی علاقوں کی نشستوں میں صرف 1 فیصد اضافہ کیا گیا۔فوج نے 56 ہزار ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا۔نئے ڈومیسائل قوانین کے تحت 50 لاکھ سے زائد ہندوؤں کو کشمیر کا ڈومیسائل دیا گیا۔مودی سرکار ہندو اکثریت پر مشتمل نیا ڈویژن بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے، جس میں کشتوار، انتناگ اور کلگم کے اضلاع شامل ہوں گے۔
کشمیر کی جغرافیائی تقسیم:

58٪ لداخ، 26٪ جموں اور 16٪ وادی کشمیر پر مشتمل ہے۔