گردشی قرضے، ڈسکوز کی ناقص کارکردگی اور بجلی کی طلب میں مسلسل کمی بڑے چیلنجز ہیں‘ بنیادی ٹیرف میں کمی یا اضافے کا ابھی سے کچھ نہیں کہہ سکتے
6 سال کے اندر گردشی قرضے کو ختم کر دیا جائے گا ‘ آئندہ سالوں میں اسے زیرو پر لایا جائے گا‘تمام بجلی کے میٹرز کو آٹومیٹڈ سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے
اسلام آباد(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے بجلی کے شعبے میں بڑی اصلاحات کی ہیں، انہوں نے 3,696 ارب روپے کی بچت کا اعلان کرتے ہوئے کہا اس کا ریلیف عوام کو ملے گا۔وفاقی دارالحکومت میں میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 36 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات سے 3,696 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، جو آنے والے سالوں میں صارفین کے لیے ریلیف کا باعث بنے گی۔انہوں نے بتایا بجلی کے شعبے کا سب سے بڑا چیلنج پیداواری لاگت ہے، جس میں ٹیرف میں اضافے اور 2,400 ارب روپے کے گردشی قرضے نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اسی طرح ڈسکوز کی ناقص کارکردگی اور کوآرڈینیشن کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جب کہ بجلی کی طلب میں مسلسل کمی بھی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ 6 سال کے اندر گردشی قرضے کو ختم کر دیا جائے گا اور آئندہ سالوں میں اسے زیرو پر لایا جائے گا۔تمام بجلی کے میٹرز کو آٹومیٹڈ سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کا عمل جاری ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں لیسکو، میپکو اور ہزیکو کی نجکاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 27,000 ٹیوب ویلز کو 7 ماہ میں سولر انرجی پر منتقل کر دیا جائے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا سی پیک کے تحت چائنیز پلانٹس میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا ہم مہنگی بجلی خریدنے کے بجائے مستقبل کے لیے پائیدار حل تلاش کر رہے ہیں۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی یا اضافے کا ابھی سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں جون تک کیا صورتحال ہوگی دیکھنا ہوگا۔ بذریعہ ریگولیٹر ہی تمام امور انجام دہیے جاتے ہیں کام حکومت کرتی ہے۔ 7 روپے 41 پیسے کا جو ریلیف دیا گیا ہے یہ بنیادی ٹیرف میں بھی شامل ہے۔ بنیادی ٹیرف کے بارے میں فل الحال کوئی پیشنگوئی نہیں کرسکتا۔