ویب ڈیسک: وزارت صحت نے سیلاب کے بعد ملک میں مختلف بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر ہنگامی ہیلتھ ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
ایڈوائزری کے اہم نکات:
سیلاب زدہ علاقوں میں ہیضہ، ٹائیفائیڈ، اور اسہال کی بیماریوں میں اضافہ کا خطرہ ہے۔ٹھہرا ہوا پانی ڈینگی، چکن گونیا اور ملیریا کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔شہریوں کو بیماریوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جیسے صاف پانی کا استعمال، ذاتی صفائی، اور حفاظتی اقدامات۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ:
پاکستان میں سیلاب کے بعد ڈینگی کے کیسز میں 41 فیصد اور ملیریا میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔بلوچستان اور سندھ میں ہیضہ کے کیسز بڑھ گئے ہیں۔خیبر پختونخوا میں خارش، جلدی امراض، سانپ اور کتوں کے کاٹنے کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صحت کا نظام وبائی امراض کے بوجھ تلے دب سکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر:
پانی کو اُبال کر یا صاف کرکے پئیں۔کھانے پینے کی اشیاء کو محفوظ رکھیں۔ڈینگی سے بچاؤ کے لیے پانی جمع نہ ہونے دیں اور مچھر مار سپرے کریں۔کسی بھی غیر معمولی علامات کی صورت میں فوری طور پر طبی معائنہ کرائیں۔یہ ایڈوائزری شہریوں کو خبردار کرنے اور سیلاب کے بعد صحت کے خطرات کو کم کرنے کے لیے جاری کی گئی ہے۔