لاہور میں سموگ کی شدت میں اضافے کے باعث فضائی آلودگی نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں، جبکہ آلودہ فضا کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
سموگ کے باعث شہری کھانسی، نزلہ، گلے کی تکالیف اور سانس کے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سانس اور چھاتی کے انفیکشن کے مریضوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔فضائی آلودگی سے بچے اور بزرگ زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ پہلے سے سانس کے مسائل کا شکار افراد کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ سموگ کی شدت برقرار رہنے کے باعث شہریوں کی صحت کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق سموگ کے موسم میں شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ باہر نکلتے وقت مناسب حفاظتی ماسک استعمال کیا جائے تاکہ آلودہ ذرات سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔شہریوں کو آنکھوں کو آلودہ فضا سے محفوظ رکھنے اور بچوں و بزرگوں کا خصوصی خیال رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ خصوصاً بچوں کو غیر ضروری بیرونی سرگرمیوں سے دور رکھنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔