پنجاب حکومت کا سوشل میڈیا کی نگرانی کیلئے نئے مرکز قائم کرنیکا فیصلہ 13 ارب روپے مختص

مرکز جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈیجیٹل پروفائلنگ کرے گا، مشکوک افراد کی شناخت کرے گا اور سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیوں کا تجزیہ کرے گا
 نظام کالز اور تقاریر کو خودکار انداز میں متن میں تبدیل کر کے اس کا تجزیہ کرے گا‘ مصنوعی ذہانت کے ذریعے  مشکوک مواد یا مہمات کی نشاندہی کی جائے گی 
 لاہور(آئی این پی)پنجاب     حکومت نے انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس  کیلئے  13 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق حکو مت  موقف ہے کہ  یہ مرکز جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈیجیٹل پروفائلنگ کرے گا، مشکوک افراد کی شناخت کرے گا اور سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیوں کا تجزیہ کرے گا۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب اس سے پہلے بھی مختلف ادارے اور محکمے سوشل میڈیا کی نگرانی  کیلئے  الگ الگ نظام بنا چکے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے  یہ نظام کالز اور تقاریر کو خودکار انداز میں متن میں تبدیل کر کے اس کا تجزیہ کرے گا۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے سوشل میڈیا پر مشکوک مواد یا مہمات کی نشاندہی کی جائے گی اور فوری کارروائی ممکن بنائی جائے گی۔یہ مرکز وفاقی حکومت کے اس ادارے کے ساتھ بھی منسلک ہوگا جس کا افتتاح چند ماہ قبل وزیرِاعظم نے کیا تھا۔ وفاقی سطح پر نیکٹا کے تحت قائم ہونے والے اس مرکز کو نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر کہا جاتا ہے، جو ملک بھر کے تمام صوبوں کو مربوط کرتا ہے۔مئی 2025 میں وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں ایک بڑے پروگرام کے دوران نیکٹا کے تحت نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر کا افتتاح کیا۔ اس مرکز کے ذریعے ملک بھر کے حساس ادارے اور صوبائی حکومتیں اپنی معلومات کو ایک جگہ شیئر کر سکتے ہیں۔یعنی ایک طرف وفاقی حکومت کا یہ مرکز ملک بھر میں فعال ہے، تو دوسری طرف پنجاب حکومت اب ایک الگ صوبائی مرکز بنانے جا رہی ہے جس پر اربوں روپے خرچ ہوں گے۔