بجلی9.06 روپے سستی ہوئی،یونٹ 39.64 روپے پر آ چکا

 ڈسکوز کے نقصانات 591 ارب سے گھٹ کر 397 ارب روپے رہ گئے
 آر ایل این جی گیس کنکشنز پرپابندی ختم کر دی گئی، قومی اسمبلی وقفہ سوالات 
اسلام آباد (نامہ نگار) قومی اسمبلی میں تحریری وقفہ سوالات کے دوران وزارت توانائی نے بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر آئی-14 اور آئی-16 کا تقریباً 70 فیصد علاقہ غیر آبادی والا ہے، اسی وجہ سے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی تنصیب ممکن نہیں ہو سکی۔ آئیسکو کی جانب سے لائن میٹریل چوری کے خلاف شکایات بھی درج کرائی گئی ہیں۔وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے ایوان کو آگاہ کیا کہ 2006 سے 2021 کے دوران 111 ملازمین نے ڈیپوٹیشن پر کام کیا جن میں سے 16 کو مستقل طور پر ضم کیا گیا۔وزارتِ خارجہ کے مطابق فن لینڈ میں تقریباً 9 ہزار پاکستانی یا پاکستانی نڑاد افراد مقیم ہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی سہولت کے لیے نائیکاپ، پاسپورٹ، ویزا اور پاور آف اٹارنی کی تصدیق سمیت تمام اہم خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔وزارت توانائی نے بتایا کہ پاکستان کو اضافی پیداواری صلاحیت کا مسئلہ درپیش ہے لیکن گرڈ کا استعمال کم ہے جس کے باعث لاگت موجودہ صارفین پر بڑھ جاتی ہے۔ جون 2024 کے بعد اوسط قومی ٹیرف 48.70 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر اگست 2025 میں 39.64 روپے فی یونٹ رہ گیا، یعنی 9.06 روپے فی یونٹ کمی ہوئی ہے۔ صنعتی سبسڈی کو 225 ارب روپے سے کم کر کے 74 ارب روپے کیا گیا جبکہ ڈسکوز کے نقصانات بھی 591 ارب روپے سے گھٹ کر 397 ارب روپے رہ گئے۔پٹرولیم ڈویڑن نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے آر ایل این جی پر مبنی نئے گھریلو گیس کنکشنوں پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ ان درخواست دہندگان کو ترجیح دی جائے گی جنہوں نے پہلے ہی ڈیمانڈ نوٹس اور فیس جمع کرائی ہے یا وہ جو مقامی گیس کنکشن سے آر ایل این جی کنکشن پر منتقل ہونے کے لیے آمادہ ہیں۔