فائنل---میں ، عاطف رانا اور پی ایس ایل

اسد شہزاد
گزشتہ دنوں لاہور قلندر کے روح رواں عاطف رانا میرے اور میںا ن کے روبرو تھا۔ عاطف رانا کے بارے میں یہ بتاتا چلوں کہ پاکستان کی کرکٹ سے چاہیے ان کا تعلق میدان کے اندر یا باہر سے ہے اور گزشتہ ایک دہائی سے جڑا یہ نام سب کی زبان پر ہے اور کوئی یہ بات مانے یا نہ مانے یہ میرا کلیم ہے کہ اس قلندروں کے قلندر نے جس طرح پاکستان کی کرکٹ کو گزرے دس سالوں میں جو ٹیلنٹ دیا اور پھر جب قومی اور بین الاقوامی میدانوں میں لاہور قلندر کے کھلاڑیوں نے یہ بات ثابت بھی کر دی کہ ہم سا ہو تو سامنے آئے میرے نزدیک لاہور قلندر ایک ٹیم ہی نہیں کرکٹ کا ایک ایسا برینڈ بن چکا ہے جس کے بغیر میدان اور شائقین کرکٹ ادھورے ہیں میں ذکر ایک ملاقات کا کر رہا تھا قلندروں کے آفس میں قلندرانہ انداز میں عاطف رانا نے میرے اس سوال کا کہ پاکستان سپر لیگ کے گیارویں ایڈیشن کے لیے دو مزید ٹیموں یعنی آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کو شامل کر کے آٹھ ٹیمیں بنائی جا رہی ہیں یعنی کہ اب آپ کا ویڑہ بڑا ہونے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ زیادہ ٹیمیں ہوں گی زیادہ میچز ہوں گے لوگوں میں دلچسپی بڑے گی تو عاطف رانا بولے… ابھی تک یہ خبر صرف خبر ہے مجھے یہ بتائیں آپ ایک طویل عرصہ سے کرکٹ پر لکھ رہے ہیں کیا زیادہ ٹیمیں ہونے سے کونسی دلچسپی بڑھے گی یاد ررکھیں دلچسپی صرف بال ٹو بال اور ایک بال اور چار یا چھ سکور والے میچز میں ہوتی ہے زیادہ ٹیموں کے آنے جانے سے کرکٹ دلچسپ نہیں ہوا کرتی دوسری بات یہ کہ کہوں گا کہ آپ نے دسویں سپر لیگ کے ایڈیشن کا فائنل دیکھا جب پوری دنیائے کرکٹ میں اس وقت تہلکہ مچ گیا ہر آنکھ حیران ہر دل کی دھڑکن تیز کہ ایک T20 کے میچ میں ایک ٹیم دوسری ٹیم کے 200 سے زائد سکور کو چیز کر رہی ہے اور پھر آخری اوور میں کچھ بھی ہو سکتا تھا ہارنے والے جیت جاتے اور جیتنے والے ہار جانے کی پوزیشن میں آ گئے تھے سو جہاں لڑنے کا جذبہ پیک پر ہو آنکھوں میں جیت کے بعد آنسو بھی آئے ہوں اس کو کہتے ہیں کرکٹ کے وہ لمحات جو کبھی کبھی ملتے ہیں بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی ٹورنا منٹ یا گروپ میں جتنی کم نہیں ہوں گی کرکٹ میں اتنا ہی نکھار آئے گا اور لوگ دلچسپی لیں گے۔ 
دوران ملاقات عاطف رانا کا یہ مؤقف بھی میرے سامنے آیا کہ کیا آٹھ ٹیمیں ہونے سے زیادہ کھلاڑی ہو جائیں گے۔ آگے کیا کم کھلاڑی ہیں یہاں تو باریاں نہیں ملتی ہیں اور یہ کہ کتنے غیر ملکی کھلاڑی اور آئیں گے سب تو آچکے اور کون سے رہ گئے ہیں ایسی بات نہیں اب کرکٹ وہ نہیں رہی آپ تو باہر بیٹھ کر قیاس آرائیاں کرتے ہیں خبریں گھڑتے ہیں۔ اب جو چھ ٹیمیں میدان میں موجود ہیں ان کے آنرز سے پوچھیں کہ ان کے اوپر کیا بیت رہی ہے۔ اب یہ اربوں کا کھیل ہے جب گھر جاتے ہیں تو جیبیں خالی ہوتی ہیں صرف کمرشل رائیلٹی اربوں میں ہے کون اس دشت میں ہاتھ ڈالے گا؟ یہاں میں نے عاطف رانا سے پوچھا کہ رانا جی یہ بتائیے کہ بھارت کے آئی پی ایل میں کتنی ٹیمیں ہیں توہ بولے ان ٹیمیوں کو آپ دیکھ رہے ہیں یہ بھی دیکھیے کہ ان کی کرکٹ کا ویڑہ کتنا بڑا ہے ایک ارب کے قریب آبادی والے بھارت میں کتنے سٹیڈیمز اور کس قدر جدید سہولیات ہیں وہاں کا سٹکچر ہمارے مقابلے میں کئی گناہ وسیع ہے۔ ہمارے مقابلے میں ان کا مارکٹنگ لیول کہاں ہے آپ مثال ضرور دیں یہ اچھی بات ہے مگر ذرا ان کے اور ہمارے حالات کو بھی دیکھ لیا کریں تو کیا ہم چھ ہی ٹیموں کے ساتھ کھیلیں گے میں نے عاطف سے پھر ایک سوال جڑ دیا تو وہ بولے… آپ ان چھ کے پاس جائیں اور ان سے ان کا حال تو پوچھیں کہ ان کے ساتھ آج کے دور میں کیا بیت رہی ہے اب تو لگ رہا ہے بلکہ ہماری تو اب کیفیت اس کھلاڑی کی سی ہے جو میدان کے اندر بڑے پریشر میں ایک ایک سکور کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے اور باہر بیٹھے لوگ صرف یہ تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں کہ مارو… مارو… سکور لو سکور لو اب جن چھ ٹیموں نے آج سے دس سال قبل جس مالیت پر فرنچائز اور کھلاڑی خریدے تھے آج دس سال کے بعد کچھ نہ پوچھیے کہ کروڑوں سے اب اربوں کے بھاؤ تاؤ ہو رہے ہیں اور کون آئے گا کیوںآئے گا کیوں پیسہ لگائے گا اور پھر کیوں پچھتائے گا یہ میراآپ کے علاوہ ان لوگوں سے سوال ہے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ چھ کی بجائے آٹھ ٹیمیں ہونا ضروری ہیں۔ عاطف رانا کی تمام تر گفتگو کے بعد کم از کم میری سوچ بدل گئی اور رانا صاحب کی بات تو درست ہے کہ آج کی کرکٹ زیادہ ٹیموں کی نہیں تیز رفتار کرکٹ کی ڈیمانڈ کرتی ہے جیسا کہ آپ سب نے دسویں پی ایس ایل کے فائنل میں دیکھا یہ حقیقت ہے کہ کرکٹ کے جدید دور میں اب جو بال ٹو بال جنگ شروع ہوئی اب تو کھلاڑیوں کی بھی پرفارمنس داؤ پر لگ گئی ہے اب تو جو پرفارمنس دے گا وہ اس دن کا ہیرو ہو گا۔
اور آخری بات… 
لاہور قلندر کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہاریں یا جیتیں ان کی ٹیلنٹ ہینٹ دیکھ لیں مزید جوش ڈال دیا جاتا ہے۔ دسویں پاکستان سپرلیگ کی جیت کے بعد رانا صاحب با ز نہیں آئے اور نکل پرے مزید نوجوانوں کی تلاش میں اور ان کی جدوجہد اور کاوش میں کمی نہیں آئی اور انہوں نے پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں کے ٹرائل جاری و ساری ہیں اور اب وہ انگلینڈ کی وربک شائر کے ساتھ ایک معاہدہ کر کے ان نئے کھلاڑیوں کو تجربہ کرانے کے لیے وہاں لے کر جا رہے ہیں… رانا جی آپ نے جو تحریک شروع کی ہے اس کو مسلسل سے تسلسل میں رکھنا بھی آپ ہی کا کام ہے جو اور کوئی نہ کر سکے گا۔