لاہور مسلسل فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہے، جہاں اسموگ اور آلودہ فضا نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) کی سطح 362 تک پہنچنے کے بعد لاہور آج بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا۔فضائی آلودگی کی بڑھتی ہوئی شدت نے شہریوں کی صحت کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح میں نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔ اقبال ٹاؤن میں فضائی آلودگی کی صورتحال سب سے زیادہ خراب رہی، جہاں اے کیو آئی کی سطح 722 ریکارڈ کی گئی، جو انتہائی خطرناک حد میں شمار ہوتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق برکی روڈ پر اے کیو آئی 455 ریکارڈ کیا گیا، جو انتہائی مضر صحت فضائی معیار کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی طرح ماڈل ٹاؤن میں آلودگی کی سطح 362، ڈی ایچ اے فیز 5 میں 282 جبکہ بیدیاں روڈ پر 264 ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق اے کیو آئی کی بلند سطح انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ فضائی آلودگی کے باعث شہریوں کو آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دیگر طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بالخصوص بچے، بزرگ اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں۔فضائی آلودگی کی موجودہ صورتحال میں شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز، باہر جاتے وقت اچھی کوالٹی کا ماسک استعمال کرنے اور گھروں کی کھڑکیاں بند رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔