عمران خان کو پختونخوا حکومت کے خاتمے پر افسوس نہیں، ذرائع کا دعویٰ

 صوبائی حکومت کی اندرونی چپقلش اور شکایات نے پہلے ہی بانی کو پریشان کر رکھا تھا 
راولپنڈی( خصوصی رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی حالیہ ملاقات کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پی ٹی آئی کے باخبر ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کے مندرجات پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اہم بات چیت ہوئی، جس میں خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے خاتمے اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے خیبرپختونخوا حکومت کے خاتمے پر کسی افسوس یا تشویش کا اظہار نہیں کیا، بلکہ ان کا م ئوقف تھا کہ صوبائی حکومت تحریک انصاف کے لیے کارکردگی دکھانے کے بجائے سیاسی اور انتظامی بوجھ بن چکی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی اندرونی چپقلش، انتظامی مسائل اور روزمرہ کی شکایات نے عمران خان کو جیل میں بھی پریشان کر رکھا تھا۔ خبر کے مطابق عمران خان نے ملاقات کے دوران کہا کہ جس نے بھی خیبرپختونخوا حکومت ختم کی، اس نے ان پر یا پارٹی پر ظلم نہیں کیا بلکہ احسان کیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے اس م ئوقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صوبائی حکومت برقرار رکھنے کے لیے کسی سیاسی سمجھوتے کے حق میں نہیں تھے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بھی بیرسٹر سلمان صفدر کی ملاقات سے قبل عمران خان سے قانونی اور سیاسی بنیادوں پر بات چیت جاری تھی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے دو مزید اہم ملاقاتوں کا امکان ہے، جن میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں آئندہ کا سیاسی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔