لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور میں فضائی آلودگی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آگیا۔
شہر میں مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 200 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مختلف علاقوں میں آلودگی کی شرح اس سے بھی زیادہ رہی۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی صورتحال تشویش ناک ہے۔ برکی روڈ پر اے کیو آئی 271 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پیراگون سٹی میں آلودگی کی شرح 224 رہی۔ اسی طرح اقبال ٹاؤن میں 215، ماڈل ٹاؤن میں 203، بیدیاں روڈ پر 193، ڈی ایچ اے فیز فائیو میں 189، چمن پارک میں 182 اور عسکری ٹین میں اے کیو آئی 155 ریکارڈ کیا گیا۔فضا میں آلودگی کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث شہریوں کو صحت کے حوالے سے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو آلودہ فضا میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔
لاہور میں موسم کی صورتحال
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں موجودہ درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 ڈگری جبکہ کم سے کم 19 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق ہوا میں نمی کا تناسب 66 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوائیں 2 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔موسم کی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شہر میں سورج اور بادلوں کے درمیان آنکھ مچولی جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ بعض مقامات پر ہلکی بارش بھی ہو سکتی ہے۔
لاہور سمیت پنجاب میں سردیوں کا آغاز کب ہوگا؟
دوسری جانب لاہور سمیت پنجاب کے میدانی علاقوں میں سردیوں کا باقاعدہ آغاز نومبر میں متوقع ہے۔ اکتوبر کے آخری دنوں اور نومبر کے پہلے ہفتے میں متوقع موسمی نظام کے گزرنے کے بعد درجہ حرارت میں نمایاں تبدیلی آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ آٹھ سے دس برس کے دوران موسم کے معمولات میں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اس عرصے میں سردیوں کے نسبتاً تاخیر سے شروع ہونے اور شدید سردی کا دورانیہ کم ہونے کے رجحانات سامنے آئے ہیں۔
گلوبل وارمنگ کے باعث سردی کا دورانیہ کم ہونے لگا
ڈائریکٹر محکمہ موسمیات محمد علیم الحسن کے مطابق پاکستان میں سردیوں کا عمومی سیزن 15 نومبر سے 15 مارچ تک رہتا ہے۔ تاہم گلوبل وارمنگ، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور فضائی گردش کے نظام میں تبدیلیاں درجہ حرارت اور موسمی معمولات کو متاثر کر رہی ہیں۔محمد علیم الحسن نے بتایا کہ شدید سردی کا دورانیہ تقریباً 75 دن سے کم ہو کر 50 دن تک رہ گیا ہے، جبکہ دن اور رات کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ان کے مطابق رواں سیزن کے لیے جاری تین ماہ کی موسمی پیش گوئی میں بارشیں معمول کے قریب رہنے، جبکہ درجہ حرارت معمول سے قدرے زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
شہریوں کے لیے احتیاط ضروری
لاہور میں فضائی آلودگی کی موجودہ صورتحال اور موسم میں متوقع تبدیلیوں کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین صحت کی عمومی ہدایات کے مطابق آلودگی زیادہ ہونے کی صورت میں کھلی فضا میں سخت جسمانی سرگرمیوں کو محدود رکھنا، ضرورت کے مطابق مناسب حفاظتی ماسک استعمال کرنا اور سانس لینے میں دشواری کی صورت میں طبی مشورہ لینا مفید ہے۔