اسرائیلی فوج کی سابق قانونی مشیر، میجر جنرل یفات تومر یروشلمی، کو ایک ویڈیو لیک سکینڈل کے سلسلے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ ویڈیو ایک فلسطینی قیدی پر اسرائیلی فوجیوں کے ظالمانہ تشدد کو دکھاتی ہے، جس کے باعث اسرائیل میں سخت تنقید اور سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یروشلمی، جنہوں نے حال ہی میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) سے استعفیٰ دیا تھا، کو اچانک گمشدہ حالت میں پایا گیا۔ پولیس نے تل ابیب کے شمالی ساحل پر ان کی تلاش کے بعد اطلاع دی کہ وہ خیریت سے ہیں، لیکن بعد میں انہیں حراست میں لے لیا گیا۔یہ معاملہ اگست 2024 میں سامنے آیا جب ایک اسرائیلی نیوز چینل نے ایک ویڈیو نشر کی، جس میں جنوبی اسرائیل کے ایک فوجی اڈے پر موجود ریزرو فوجیوں کو ایک فلسطینی قیدی کو تشدد کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس ویڈیو لیک کے بعد فوجداری تحقیقات شروع کی گئیں، اور یروشلمی کو عہدے سے معطل کر دیا گیا۔اسرائیلی وزیر دفاع نے جمعہ کو اعلان کیا کہ یروشلمی اپنے عہدے پر واپس نہیں آئیں گی، اور انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔
یروشلمی نے اپنے استعفے میں اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ ویڈیو لیک ہونے کا ذمہ دار وہی ہیں، اور اس اقدام کو فوجی قانون کی خلاف ورزی کے خلاف غصے کا ردعمل قرار دیا۔یہ معاملہ اسرائیل میں دائیں اور بائیں بازو کے درمیان گہری تقسیم کا سبب بن گیا ہے۔ دائیں بازو کے حلقے ویڈیو کے لیک ہونے کو فوج کے خلاف غداری قرار دے رہے ہیں، جبکہ بائیں بازو کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یروشلمی نے اپنی ذمہ داری قبول کرکے اصل حقائق کو آشکار کیا ہے۔اسرائیل میں یہ ویڈیو لیک اس وقت منظرعام پر آئی جب فلسطینی قیدیوں پر 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد وسیع پیمانے پر تشدد کی رپورٹس سامنے آئیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ غزہ سے گرفتار کیے گئے مرد، خواتین اور بچے جسمانی، نفسیاتی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنے، جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔