اسرائیل کا اہم دفاعی فیصلہ: امریکا سے جدید جنگی طیارے حاصل کرنے کی منظوری

اسرائیل کا اہم دفاعی فیصلہ: امریکا سے جدید جنگی طیارے حاصل کرنے کی منظوری

اسرائیل نے امریکا سے جدید لڑاکا طیارے خریدنے کے ایک بڑے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت وہ لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ سے F-35 اور F-15IA طیارے حاصل کرے گا۔

یہ فیصلہ اسرائیلی وزارت دفاع کے وزارتی کمیٹی برائے خریداری کی طرف سے منظوری کے بعد ہوا ہے، اور اس کا مقصد اسرائیلی فوج کی طاقت کو مضبوط بنانا ہے۔اس معاہدے کے تحت، اسرائیل F-35 طیاروں کا چوتھا اسکواڈرن لاک ہیڈ مارٹن سے اور F-15IA طیاروں کا دوسرا اسکواڈرن بوئنگ سے خریدے گا۔ یہ جدید جنگی طیارے طویل المدتی فوجی حکمت عملی کا اہم حصہ ہوں گے، جن کا مقصد علاقائی خطرات کا مقابلہ کرنا اور فضائی برتری کو برقرار رکھنا ہے۔ اس منصوبے کا اندازہ تقریباً 350 ارب شیکل (تقریباً 119 ارب امریکی ڈالر) ہے، جو کہ ایک وسیع دفاعی بجٹ کا حصہ ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ اس بڑے دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ ملک کے اندر اسلحہ سازی پر خرچ کیا جائے گا تاکہ بیرونی انحصار کم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل مستقبل میں خود بھی جدید طیارے اور ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت بڑھانا چاہتا ہے۔
اسرائیلی وزارت دفاع کے ڈائریکٹر جنرل امیر بارام کے مطابق، یہ معاہدہ فوری جنگی ضروریات کے ساتھ ساتھ آئندہ 10 سال اور اس سے آگے کے لیے فوجی برتری کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حالیہ علاقائی کشیدگی، خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری تناؤ، نے جدید فضائی طاقت کی اہمیت کو مزید واضح کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں دفاعی توازن پر اثر پڑ سکتا ہے اور خطے میں اسلحہ کی دوڑ میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ یہ اقدام اسرائیل کی علاقائی سلامتی اور فوجی قوت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔