امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے عالمی تیل کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کی پیشگوئی کی ہے، جنگی حالات کے بعد توانائی کی قیمتوں میں واضح کمی آنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے ایک امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مستقبل قریب میں تیل کی عالمی منڈی میں بڑی گراوٹ دیکھی جا سکتی ہے، کیونکہ امریکا کی توانائی برآمدات اس وقت بلند ترین سطح پر ہیں۔ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق، امریکی توانائی شعبہ ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے، اور صرف انفراسٹرکچر کی کمی اسے مزید ترقی سے روک رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت میں اضافہ متوقع ہے، اور ایران کی جانب سے ٹول وصول کرنے کی کوششیں کم مؤثر ہو رہی ہیں۔
بیسنٹ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ممکنہ ملاقات میں کسی بڑے سیاسی فیصلے کی توقع نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں کم ہوتیں ہیں، تو اس کے عالمی معیشت، توانائی مارکیٹس اور درآمدکنندہ ممالک پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔