حکومت جی ڈی پی کے اعدادوشمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے، حقائق برعکس ہیں،سابق پروفیسرارون کمار
نئی دہلی (آئی این پی ) سابق بھارتی پروفیسر معاشیات، ارون کمار نے بھارتی معیشت کے اندرونی مسائل اور حکومت کے جھوٹے دعوں کو بے نقاب کر دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق پروفیسر ارون کمار نے کرن تھاپر کے انٹرویو میں بھارت کی معاشی ترقی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔جواہر لال نہرو یونی ورسٹی کے سابق معاشیات کے پروفیسر ارون کمار کا بھارتی معیشت پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت جی ڈی پی کے اعدادوشمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ارون کمار نے کہا کہ مودی سرکار کے مطابق بھارت کا جی ڈی پی جاپان کے برابر یا اس سے آگے نکل رہا ہے جبکہ بھارتی عوام کی فی کس آمدنی کو مدنظر رکھا جائے تو اب بھی جاپان کے مقابلے میں بھارت 13گنا پیچھے ہے، بے روزگاری کی شرح سرکاری اعدادوشمار میں کم دکھائی جاتی ہے۔ بین الاقوامی ادارے بھارت میں بے روزگاری کی اصل شرح کہیں زیادہ بتاتے ہیں، بھارت میں لیبر فورس کی شراکت کی شرح عالمی معیار کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ارون کمار نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور تحقیق و ترقی کے میدان میں بھارت ابھی بھی ترقی یافتہ ممالک سے کوسوں دور ہے۔ محض جی ڈی پی کا بڑھ جانا ترقی کی علامت نہیں، حقیقی ترقی کا انحصار صحت، تعلیم اور سماجی بہبود پر ہے۔سابق معاشیات کے پروفیسر کا کہنا تھا کہ بھارتی معاشی ترقی کی شرح حقیقت میں صرف 2 فیصد ہے جبکہ مودی سرکار بھارتی معیشت کی ترقی 6.5فیصد بتاتی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی معیشت کے متعلق سرکاری دعوے مبالغہ آمیز ہیں۔