عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے:ہائیکورٹ‘، سیکرٹری ہیلتھ کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت
لاہور (زیڈ این این) لاہور ہائیکورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے برطرفی کے نوٹسز کالعدم قرار دے دیے۔ عدالت نے ڈاکٹروں کی برطرفی کے خلاف دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ سمیت دیگر متعلقہ حکام کو ڈاکٹروں کی جوائننگ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت جاری کی۔یہ فیصلہ جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) ڈاکٹر شعیب نیازی سمیت دیگر ڈاکٹروں کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کے بعد سنایا۔درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت نے پہلے ہی برطرفی کے نوٹس معطل کر دیے تھے لیکن اس کے باوجود ڈاکٹروں کو بحال نہیں کیا جا رہا۔ اس پر عدالت نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے فریقین کے وکلاء کو سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں درخواستیں منظور کرلیں۔سماعت کے دوران محکمہ صحت کی جانب سے سپیشل سیکرٹری ہیلتھ ایڈمن طارق رحمانی اور ایڈیشنل سیکرٹری میڈیکل ایجوکیشن سدرہ عدالت میں پیش ہوئیں، جب کہ پنجاب حکومت کی نمائندگی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جن نے کی۔درخواست گزاروں میں ڈاکٹر ارسلان رضا، ڈاکٹر حسیب تھند سمیت کئی دیگر شامل تھے جنہوں نے برطرفی کے نوٹس کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالتی احکا