انتہا پسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں اقلیتی خواتین خصوصاً دلت خواتین کی عزتیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں، اور ان کے خلاف جنسی تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، بھارت میں رہنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ دلت ہونے کی وجہ سے ان کی بیٹی کو اونچی ذات کے ہندوؤں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعہ کے بعد، ان کے گاؤں والوں نے انہیں علاقہ بدر کر دیا اور واقعہ کا ذمہ دار ان کی بیٹی کو ٹھہرایا۔ متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ مودی کی حکومت سے انصاف کی کوئی امید نہیں ہے۔ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس کے مطابق، اونچی ذات کے ہندو دلت خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ان کے خلاف جنسی تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دلت خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا انہیں گاؤں چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، بھارت کا عدالتی نظام اس معاملے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ جنسی زیادتی کرنے والے افراد کو سزا نہیں ملتی، اور متاثرہ خاندان انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس کا کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ دلتوں کو انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے، حالانکہ بھارتی آئین میں جنسی زیادتی کے خلاف قوانین موجود ہیں، مگر ان پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، مودی کی سرپرستی میں بھارتی عدالتی نظام دلتوں کو حقوق فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، اور بھارت میں اقلیتی خواتین خصوصاً دلت خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ مودی حکومت کے دور میں خواتین کے حقوق اور تحفظ میں سنگین کمی واقع ہو چکی ہے۔