محکمہ مواصلات و تعمیرات ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور محکمہ انہارمیں 9ارب ،23کروڑ سے زائد ریکوری نہیں کی گئی
تینوں اداروں میں کئی برسوں سے بار بار ایک ہی طرح کی غلطی کی جارہی ہے،سرکاری دستاویزات میںانکشاف
لاہور(دانش منیر) حکومت کے اہم ترین ادارے ہی رولز کی خلاف وزریاں کرنے لگے ،محکمہ مواصلات و تعمیرات ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور محکمہ انہار کی بڑی نالائقی سامنے آگئی، خلاف ضابطہ خریداری، رولز کی مخالفت، سرکاری رقوم کی عدم ریکوری سمیت دیگر کوتاہیاں بے نقاب، تینوں اہم اداروں کی 51 ہزار 7 سو 64 آڈٹ پیرے تاحال زیر التواء ہیں ۔سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب حکومت کے اہم ترین تینوں اہم اداروںکے 51 ہزار پیروں میں سے صرف 91 پیرے ہی سیٹلڈ ہوسکے۔ دستاویز کے مطابق 9 ارب 23 کروڑ 84 لاکھ سے زائد رقوم کی ریکوری ہی نہیں کی گئی ،سب سے زیادہ محکمہ انہار کے 19 ہزار 7سو 50میں سے صرف 19 آڈٹ پیرے سیٹلڈ ہوئے،جبکہ مالی لحاظ سے سب سے زیادہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے 6 ارب 11کروڑ69لاکھ سے زائد کی ریکوری نہ ہوئی۔ محکمہ انہار کی 1 ارب 95 کروڑ 87 لاکھ 36 ہزار کی رقم ریکورنہ ہوئی ‘مواصلات و تعمیرات کے 16 ہزار 5سو 73 میں سے صرف 37 پیرے ہی سیٹلڈ ہوسکے ۔محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے 1 ارب 16 کروڑ 27 لاکھ سے زائد کی رقم ریکور نہ کی۔دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے 15 ہزار 4سو 41 میں سے صرف 35 پیرے ہی سیٹلڈ ہوسکے۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے 6 ارب 11کروڑ69لاکھ سے زائد کی ریکوری نہ ہوئی۔دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ نہ سٹاک رجسٹر، نہ ہی بل اور نہ ہی لاگ بک کی دستیابی ہوئی ،کتنا سامان آیا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ،ٹھیکیداروں کی پرفارمنس کی جانچ ،بینک گارنٹی اورپرفارمنس سکیورٹی کو نظر انداز کرکے مالی مفاد پہنچایا گیا۔تینوں اداروں میں گذشتہ کئی برسوں سے بار بار ایک ہی طرح کی غلطی کی جارہی ہے۔رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ افسران کی قابلیت کو بڑھانے کے لیے ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے ، خریداریوں میں پیپرا رولز کو نظر انداز کیاگیا،جنوری 2024تا جون 2024تک پی اے سی کی جانب ترقیاتی سکیموں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔