لاہور اور قصور کے حکام نے بتایا کہ درندہ صفت ملزم نے چار سالہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد نالے میں پھینک دیا۔
پولیس کے مطابق قصور کے تھانہ مصطفیٰ آباد کے علاقے سے بچی کو زخمی حالت میں گندے نالے سے برآمد کیا گیا۔ بچی کے مخصوص جسمانی حصوں پر گہرے زخموں کے نشانات پائے گئے، جس کے بعد اسے ڈسٹرکٹ بابا بلھے شاہ اسپتال منتقل کیا گیا اور پھر لاہور جنرل اسپتال میں ریفر کیا گیا۔لاہور جنرل اسپتال ذرائع کے مطابق بچی کا علاج شروع کر دیا گیا ہے اور اس کے معاملے میں نو رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ اسپتال میں بچی کی حالت آپریشن کے بعد خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔پولیس نے ایس ایچ او مصطفیٰ آباد کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا ہے۔ ڈی پی او قصور کے مطابق، ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ملزم کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ مساجد میں اعلانات اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔پولیس نے عوام سے درخواست کی ہے کہ اگر کسی کے پاس معلومات ہیں تو فوری طور پر فراہم کریں تاکہ ملزم کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔ لاوارث بچی کے ورثا کی تلاش کے لیے بھی اشتہارات اور اعلانات جاری ہیں۔