پی ٹی آئی 8 فروری کی ہڑتال کا ’’بوکاٹا‘‘
پی ٹی آئی کے لاہور سے تعلق رکھنے والے اراکین پنجاب اسمبلی نے 8 فروری کو بسنت منانے کی تیاریاں کر رکھی ہیں، مقامی قیادت کی جانب سے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہ آ سکی،ٹرانسپورٹرز سے ملاقاتیں بھی نہ ہو سکیں
لاہور(کرائم رپورٹر)تحریک تحفظ آئین پاکستان کا لاہور دورہ اور تحریک انصاف کی جانب سے ممکنہ سٹریٹ موومنٹ شروع نہ ہوسکی ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی لاہور کسی بھی قسم کی موثر عوامی تحریک یا احتجاجی سرگرمی منظم کرنے میں ناکام رہی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے لاہور سے تعلق رکھنے والے اراکین پنجاب اسمبلی نے 8 فروری کو بسنت منانے کی تیاریاں کر رکھی ہیں، جبکہ پارٹی کی جانب سے اعلان کردہ ہڑتال کے لیے شہر میں کوئی عملی سرگرمی دکھائی نہیں دی۔ صدر پی ٹی آئی لاہور اکرم عثمان منظر عام سے غائب رہے اور ہڑتال کے حوالے سے لاہور کی قیادت کی جانب سے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہ آ سکی۔پارٹی ذرائع کے مطابق 8 فروری کی ہڑتال کو موثر بنانے کے لیے ٹرانسپورٹرز سے ملاقاتیں طے تھیں تاہم تاحال ایک بھی ملاقات نہ ہو سکی۔ اسی طرح عوام کو متحرک کرنے کے لیے لاہور کے مختلف علاقوں میں کوئی کارنر میٹنگ یا عوامی اجتماع منعقد نہیں کیا گیا، جس کے باعث کارکنوں میں شدید کنفیوڑن پائی جاتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کی جانب سے بسنت کے موقع پر 804 نمبر کی پتنگیں تقسیم کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی تاہم اس پر بھی عملدرآمد نہ ہو سکا۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی سینئر قیادت تاحال 8 فروری کی ہڑتال کو کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کر رہی ہے۔