اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ کے جسٹس وحید کی سربراہی میں5 رکنی بینچ نے 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا ہے جس میں قرار دیا گیاہے کہ غلط طریقے سے برطرفی کے بعد بحال ہونے والا سرکاری ملازم سروس سے باہر رہنے والی مدت کے لیے مکمل تنخواہ اور مراعات کا حقدار ہے۔یہ بنیادء یاور عام اصول ہے کہ جب برطرفی غلط ثابت ہو تو مالی معاوضہ صوابدیدی نہیں ہے، ایسے سرکاری ملازم کو مکمل تنخواہ دی جانی چاہیے۔حکم نامے میں وضاحت کی گئی کہ یہ ہدایت بنیادی طور پر سرکاری ملازم کو اس کی اصل معاشی حالت میں بحال کرنے کے بنیادی مقصد کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔