اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں ججز ٹرانسفر اور سینیارٹی سے متعلق اہم آئینی مقدمے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے اپنا تحریری جواب جمع کرواتے ہوئے وفاقی حکومت پرالزامات عائدکیے ہیں کہ انھوں نے ججزکے تبادلے کے حوالے سے عدالت سے غلط بیانی سے کام لیاہے ،تحریری جواب میں کئی اہم ترین سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔بدھ کو یہ جواب وکیل منیر اے ملک اور رفاقت حسین کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔تحریری جواب میں وفاقی حکومت پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ججز ٹرانسفر کے معاملے میں غلط بیانی سے کام لیا گیا۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ مشاورت کے دوران یہ غلط دعویٰ کیا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں تمام صوبوں کی نمائندگی موجود نہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کو یہ بھی آگاہ نہیں کیا گیا کہ نئے ججز حلف کے بغیر ہی اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔جواب میں اس بات پر بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ جسٹس عامر فاروق کا نام سپریم کورٹ کے لیے تجویز کیے جانے کے فوراً بعد ججز کے تبادلے کیے گئے، جو کہ ایک معنی خیز امر ہے